تازہ ترین خبریںدلی نامہ

شہریت قانون: ترکمان گیٹ پر مظاہرین کو ڈٹین کرنے پر بھڑکے لوگ

مشتعل افراد نے انسانی زنجیر بنا کر کیا احتجاج ٭بغیر نیم پلیٹ پولیس اہلکاروں سے مظاہرین کی نوک جھونک

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف دہلی بھر میں وسیع ہوتے جا رہے مظاہرے حکومت اور پولیس کی آنکھ میں چبھنے لگے ہیں۔ ان کو ختم کرانے کیلئے پولیس کی جانب سے مختلف کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دہلی کے تاریخی ترکمان گیٹ پر گزشتہ روز سے سی اے اے کے خلاف احتجاج پر بیٹھے مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ جس سے لوگوں نے ترکمان گیٹ پر انسانی زنجیربنا کر حکومت اور پولیس کے رویہ کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اپنا احتجاج کیا۔

سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف دہلی بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں میں پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ پر بھی کل سے احتجاج کر رہے تھے، پولیس نے احتجاج ختم کرانے کی نیت سے آج صبح مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اطلاع کے مطابق پولیس نے تقریبا 15 لوگوں کو حراست میں لیا ہے جن کو راجندر نگر تھانہ لیجایا گیا ہے۔ پولیس کی اس کاروائی کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی لوگوں کا ہجوم ترکمان گیٹ پر ہوگیا اور مشتعل افراد نے انسانی زنجیر بناکر احتجاج کیا۔ مظاہرین کو رہا کرانے کیلئے لیگل ٹیم اور کونسلر آل محمد اقبال بھی وہاں پہنچے، جس کے بعد ان کو رہا کرایا گیا۔
یہاں بغیر نیم پلیٹ کے پولیس والوں کی موجودگی پر یہاں خاتون مظاہرین اور پولیس کے بحث بھی ہوگئی۔

ترکمان گیٹ پر مظاہرہ میں شریک خاتون پولیس اہلکار کی ویڈیو بناتے ہوئے اس سے مسلسل اس کی نیم پلیٹ کیلئے پوچھ رہی تھی، کہ اس کی نیم پلیٹ کہاں ہے؟ اسے وہ شو کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ لیکن پولیس نے الٹا خاتون پر نیم پلیٹ چھیننے کا الزام بھی لگایا، جواب میں پولیس اہلکار نے کہا کہ آپ نے دھکہ مکی میں میری نیم پلیٹ چھین لی ہے جبکہ اس وقت تک وہاں کسی طرح کی کوئی دھکہ مکی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی پولیس نے تب تک مظاہرین کو ڈٹین کیا تھا۔ پولیس کا بغیر نیم پلیٹ کے مظاہرین کے درمیان پہنچنا اپنے آپ میں سوال اٹھاتا ہے کہ اگر پولس اہلکار ڈیوٹی پر ہے تو اس کی نیم پلیٹ کہا ہے، آخر بغیر نیم پلیٹ کے آنے میں اس کے ارادے کیا ہیں؟

مقامی رہائشی اور آر ٹی آئی ایکٹوسٹ شاہد گنگوہی کا کہنا ہے کہ کئی روز سے ترکمان گیٹ پر پر امن احتجاج جاری ہے، لوگ پر امن طریقے سے دھرنے پر ہیں۔ لیکن آج صبح پولیس نے ایک ایک کرکے مظاہرین کو گاڑیوں میں بھرنا شروع کر دیا۔ مظاہرہ کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن ایس لگتا ہے کہ پولیس یہاں کا ماحول خراب کرنا چاہتی ہے۔ سیاسی سماجی کارکن کنور شہزاد سمیت مقامی افراد نے بتایا کہ آج صبح پولیس نے سی اے اے، این سی آر، این پی آر کے خلاف پر امن احتجاج کر رہے لوگوں کو حراست میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام دیش اور عوام کیلئے کام کرنا ہے لیکن یہ صرف مرکزی حکومت کیلئے کام کر رہی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close