اترپردیشتازہ ترین خبریں

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ، پتھراؤ اور آگزنی، تقریبا 2ہزار حراست میں

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سماج وادی پارٹی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ریاست گیر کئے جارہے احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ کئی علاقوں پتھراؤ اور آگزنی کے واقعات بھی پیش آئے۔ ریاستی راجدھانی لکھنؤ کے کھدرا، ٹھاکر گنج علاقے میں مشتعل مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا تو پولیس نے حالات کو بگڑتا دیکھ مظاہرین پر لاٹھیاں بھی برسائیں۔

پولیس نے مدھے گنج پولیس اسٹیشن کے کھدرا علاقے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ موصول اطلاع کے مطابق پولیس نے مشتعل مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان آمنے سامنے کی پرتشدد جھڑپ بھی ہوئی۔ پولیس نے پریورتن چوک پر احتجاج کے لئے اکٹھا ہونے والے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ پریورتن چوک پر بھی شر پسند عناصر نے کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا۔ میڈیاکے او بی وین کو بھی آگ کے حوالے کردیا گیا۔

وہیں نزیک ہی میں موجود کے ڈی سنگھ بابو میٹرو اسٹیشن کو میٹرو انتظامیہ نے شام تک کے لئے بندکردیا۔ لکھنؤ کے پریورتن چوک، حضرت گنج اور کھدرا علاقے سے تقریبا 500 افراد کو پولیس نے اپنی حراست میں لیاہے ۔ ریاستی راجدھانی میں متعدد کانگریس لیڈربشمول کانگریس ریاستی صدر اجے کمار للو کو گاندھی پرتما حضرت گنج علاقے میں اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ سنبھل سے موصول ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے یوپی گورنمنٹ کی بس میں آگ لگا دی جبکہ متعدد دیگر گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کیا۔ مظاہرین نے چودھری سرائے پولیس اسٹیشن میں بھی پتھر بازی کی۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔

وہیں ریاست کے دیگر حصوں سے بھی تشدد کے واقعات کی خبریں موصول ہوئیں جبکہ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ حالات قابو میں ہیں۔پولیس نے سماج وادی پارٹی کے متعدد لیڈران سمیت 2000 افراد کو آج کے احتجاج کے پاداش میں گرفتار کیا ہے جبکہ 3000 ہزار سے زیادہ افراد کو ریاست کے متعدد علاقوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد بھی مظاہرین اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے باہر نکلے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ جو ایک شادی پارٹی میں شرکت کرنے کے لئے کھیم پوری کھیری کے لئے نکلے تھے انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ حکومت شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو ہراساں کررہی ہے۔

انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کو فرقہ وارانہ بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے والا قرار دیا۔ڈی جی پی اوپی سنگھ نے جمعرات کو بتایا کہ پولیس نے ریاست کے متعدد علاقوں میں مظاہرین کے خلاف کاروائی کی ہے۔ ان کے مطابق کچھ مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں لیکن حالات قابو میں ہیں۔ وہیں پولیس نے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والے افراد کے خلاف بھی کاروائی کی ہے۔ پولیس نے 62 افراد کو بدھ کی رات گرفتار یا ہے۔

ڈی جی پی کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعہ منافرت پھیلانے کے الزام میں علی گڑھ، مئو، وارانسی، پریاگ راج اور دیگر مقامات سے افرد کو گرفتار کیا ہے۔ لکھنؤ میں بھی پولیس نے تین افراد کو سوشل میڈیا پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے ۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close