تازہ ترین خبریںدلی نامہ

شہریت ترمیمی قانون: متھرا روڈ پر مظاہرین اور پولیس میں تصادم، کئی بسیں نذرآتش

شہریت (ترمیمی) بل 2019 کی مخالفت میں مظاہرین نے متھرا روڈ کو جام کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور کچھ طاقت کا استعمال کیا۔

مظاہرین نے متھرا روڈ کے پاس ایک ڈی ٹی سی بس میں آگ لگا دی ہے۔ علاوہ ازیں جُلینا میں بھی ایک بس کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ سوریہ ہوٹل کے پاس بھی مظاہرین کو بھگانے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے لیکن مظاہرین جُلینا میں رکے ہوئے ہیں۔ پولیس مسلسل مظاہرین سے واپس جانے کی اپیل کر رہی ہے لیکن مظاہرین جُلینا سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہاں حالات کشیدہ ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر قائم رکھنے کے لیے کئی تھانوں کی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ مظاہرین ’سموِدھان (آئین) بچاؤ اور لوک تنتر (جمہوریت) بچاؤ‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

سی اے بی کے خلاف جامعہ نگر بھی آج بند ہے اور ہزاروں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔ مظاہرہ کرنے والے عوام دو کلومیٹر طویل مولانا محمدعلی جوہر روڈ پر مارچ کر رہے ہیں۔ اوکھلا موڑ کے پاس بڑی تعداد میں عوام جمع ہیں اور سی اے بی کی مخالفت میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں کالندی کُنج کے پاس بھی بڑی تعداد میں عوام جمع ہیں اور نعرے بازی کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح کا قانون لائی ہے۔ حکومت مسلمانوں کو دوئم درجے کا شہری بنانا چاہتی ہے۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں حالانکہ ٹھندی کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا ہے لیکن آج مقامی لوگوں کے ساتھ طلبہ بھی سڑکوں پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے جمعہ کو احتجاجی مظاہرہ کیا تھا، اس وقت بھی پولیس اورطلباء میں جھڑپ ہوئی تھی۔ اس میں بڑی تعداد میں طلباء زخمی ہوئے تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close