تازہ ترین خبریںدلی نامہ

شہریت ترمیمی قانون: جامعہ کے طلباء نے فی الحال تحریک لی واپس

جامعہ انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کرنے کے بعد شہریت ترمیمی قانون (سی اے بی) کی مخالفت میں مظاہرہ کر رہے طلبا نے فی الحال اپنی تحریک روک دی ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنی تحریک واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے ہفتہ کو مسلسل دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرہ جاری رہا اور کشیدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام امتحانات ملتوی کر دیے گئے اور 16 دسمبر سے سرمائی تعطیل کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ طلباء نے گزشتہ روز پولیس کی جانب سے کئے گئے لاٹھی چارج کے خلاف ہفتہ کو یونیورسٹی بند کا اعلان کیا تھا۔ طلباء کے احتجاج کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ نے ہفتہ کو ہونے والے سمسٹر امتحانات ملتوی کر دیے۔ جامعہ ٹیچرس ایسوسی ایشن نے طلباء کے احتجاج کی حمایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جامعہ کے سابق طلباء نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے پہلے صرف آج ہونے والے سمسٹر امتحانات ملتوی کر دئے تھے لیکن کشیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام امتحانات ملتوی کر دیے اور 16 دسمبر سے آئندہ برس پانچ جنوری تک سرمائی چھٹیوں کا اعلان کر دیا۔ ابھی یونیورسٹی چھ جنوری کو کھلے گی اور تمام امتحانات کی تاریخوں کا از سر نو اعلان کیا جائے گا۔

جامعہ طلباء یونین کے سابق صدر شمس پرویز نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت شہریت کا جو قانون لے کر آئی ہے وہ آئین پر حملہ ہے اور ملک کو توڑنے والا ہے۔ انہوں نے طلباء کے احتجاج کو اپنی حمایت دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے بانیوں اور طلباء نے انگریزی حکومت کے خلاف بہادری کی مثال پیش کی اور اب جب ملک میں جمہوریت بچانے کی جنگ ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹنے والے ہیں۔ ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا جامعہ کے بانیوں کو سچی خراج عقیدت پیش کرنا ہوگی۔ مظاہرہ کر رہے طلباء مسلسل انقلاب زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔

طلبا ء کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ طلباء کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون جمہوریت کے خلاف ہے اور مسلم معاشرے کو اس قانون سے الگ رکھا گیا ہے۔ امن امان بنائے رکھنے کے لئے جامعہ سے ایک کلو میٹر دور بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے جہاں کئی اضلاع کے اعلی افسران بھی موجود ہیں ۔ واضح ر ہے کہ جمعہ کے روز احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کئی طلباء اور 12 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

طلباء گزشتہ روز جامعہ سے پارلیمنٹ کی جانب جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے یونیورسٹی کیمپس میں ہی روکنے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس اور طلباء کے درمیان میں کہا سنی ہوگئی۔ اس کے بعد پولیس نے طلباء پر آنسو گیس کے گولوں اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close