تازہ ترین خبریںدلی نامہ

شہریت ترمیمی قانون: جامعہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل، حالات کشیدہ

شہریت ترمیمی بل کیخلاف جاری پورے ملک میں احتجاج پر تشدد ہوتا جا رہا ہے۔ اوکھلا کے جامعہ نگر علاقے میں حالات بے قابو ہو گئے۔ پرتشدد مظاہرے میں متعدد بسیں اور دیگر گاڑیوں میں آگزنی کی گئی۔ پولیس نے دیر شام کارروائی کرتے ہوئے جامعہ ملیہ کے کیمپس میں داخل ہو کر ریڈنگ روم، لائبریری اور مسجد میں توڑ پھوڑ کی۔ طلبہ کو جم کر پیٹا۔ آنسو گیس کے گولے داغے۔

پولیس کی اس پرتشدد کارروائی میں سیکڑوں طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ جامعہ کیمپس میں دیر رات تک طلبہ محبوس تھے۔ پورے علاقے کو پولیس نے چھاونی میں تبدیل کر دیا ہے۔ دوسری جانب اس پر تشدد کارروائی کے دوران جامعہ طلبہ یونین سے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر تشدد مظاہرے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا مظاہرہ پر امن تھا۔ پرتشدد کارروائی میں مقامی باشندوں کا ہاتھ ہے۔ جامعہ انتظامیہ نے بھی اس تشدد سے انکار کیا ہے۔

آج بڑی تعداد میں لوگ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ کالندی کنج روڈ پر سریتا وہار اور نوئیڈا روڈ پر سیکڑوں مقامی باشندوں نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ جام کر دیا۔ وہیں دوسری جانب جامعہ ملیہ سے نکلنے والا طلبہ کا احتجاج مارچ سرائے جولینا اور متھرا روڈ کی طرف کوچ کر رہا تھا جسے پولیس والوں نے روکا جس کے بعد پولیس اور طلبہ کے درمیان تشدد بھڑک گیا۔ اس دوران پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھیاں چارج کی جس میں بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات زخمی ہوئے۔ افرا تفری مچ گئی۔ اسی دوران مشتعل مظاہرین نے ڈی ٹی سی کی بسوں میں بھی آگ لگا دی۔

مظاہرین نے متھرا روڈ کے پاس دو ڈی ٹی سی بس کو آگ کے حوالے کر دیا۔ اس کے علاوہ فائر بریگیڈ کی گاڑی میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ علاوہ ازیں جْلینا میں بھی ایک بس کو نذر آتش کر دیا گیا۔پولیس نے سوریہ ہوٹل کے پاس جمع بڑی تعداد میں مظاہرین کو بھگانے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے لیکن مظاہرین جْلینا میں ہی رکے رہے۔

پولس مسلسل مظاہرین سے واپس جانے کی اپیل کر رہی ہے لیکن مظاہرین جْلینا سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس پر تشدد مظاہرے کے بعد پورے علاقے میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اوکھلا کے بٹلہ ہاؤس،جامعہ نگر،ابو الفضل، شاہین باغ علاقے میں لوگوں میں سر اسیمگی پھیلی ہوئی ہے دکانیں بند ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر بر قرار رکھنے کے لیے کئی تھانوں کی پولس کو تعینات کی گئی ہے۔ مظاہرین آئین بچاو اور جمہوریت‘ بچاؤ کے نعرے لگا رہے تھے۔

واضح رہے کہ سی اے بی کے خلاف جامعہ نگر علاقے میں آج اوکھلا بند کا اعلان کیا گیا تھا۔دوپہر بعد بڑی تعداد میں لوگ مظاہرہ کرتے ہوئے نکلے۔ ایک گروپ کالندی کنج اور سریتا وہار روڈ پر مظاہرہ کر کے راستے بند کر دیا تھا تو دوسری جانب جامعہ طلبہ کی جانب سے پر امن مارچ کی اپیل کی ساتھ لوگ آگے بڑھے جسمیں بڑی تعداد میں طالبات نے حصہ لیا۔ مظاہرہ کرنے والے عوام نے دو کلومیٹر طویل مولانا محمدعلی جوہر روڈ پر مارچ کیا۔ اوکھلا موڑ کے پاس بڑی تعداد میں عوام جمع ہوئے اور سی اے بی کی مخالفت میں نعرے بازی کی گئی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح کا قانون لائی ہے۔ حکومت مسلمانوں کو دوئم درجے کا شہری بنانا چاہتی ہے۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں حالانکہ موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان ہو گیا ہے۔ ان پر تشدد کارروایوں کے درمیان طلبا کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے پْر امن احتجاج کیا جا رہا ہے اور تشدد میں کوئی طالبہ علم شامل نہیں ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طلبا تنظیم کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرے دوران جو تشدد ہوا ہے اس میں طلبا کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور باہری لوگوں نے اس طرح کی حرکت کی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close