اپنا دیشتازہ ترین خبریں

شہریت ترمیمی بل 2019: کسی ملے گی شہریت…..؟

حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیر کو پیش شہریت (ترمیمی) بل 2019 میں سال 2015 سے پہلے سے غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندو، بودھ، جین، سکھ، پارسی اور عیسائی طبقوں کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کی تجویز کی گئی ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ اس کے مقاصد اور وجوہات میں بتایا گیا ہے کہ بل کے ذریعہ شہریت ایکٹ کی فہرست تین میں ترمیم کرکے ان تینوں ملکوں کے مندرجہ بالا چھ طبقوں کے لوگوں کے لئے مستقل شہریت کی درخواست کی شرائط کو آسان بنایا گیا ہے۔ پہلے کم از کم 11سال ملک میں رہنے کے بعد انہیں شہریت کے لئے درخواست کا حق تھا۔ اب اس طے مدت کو گھٹا کر پانچ سال کیا جا رہا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر 2014 تک بغیر قانونی دستاویزوں کے ان تین ملکوں سے ہندوستان میں داخل ہونے والے یا اس مدت سے پہلے قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے اور دستاویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر یہیں رہنے والے چھ طبقوں کے لوگ شہریت کی درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ساتھ ہی یہ بھی انتظام کیا گیا ہے کہ ان کی نقل مکانی یا ملک میں غیر قانونی طور پر قیام کے سلسلے میں ان پر پہلے سے چل رہی کوئی بھی قانونی کارروائی مستقل شہریت کے لئے ان کی اہلیت کو متاثر نہیں کرے گی اور شہریت کی درخواست پر غور کرنے والے افسر ان معاملوں پر توجہ دیئے بغیر درخواست پر غور کریں گے۔

اس بل کے ذریعہ ’اوورسیز سٹیزین آف انڈیا‘ (او سی آئی) کارڈ ہولڈروں کے ذریعہ قانون کی شرطوں یا کسی دیگر ہندوستانی ضابطے کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ان کا کارڈ منسوخ کرنے کا اختیار مرکزی حکومت کو مل جائے گا۔ ساتھ ہی کارڈ منسوخ کرنے سے پہلے کارڈ ہولڈر کو اپنی بات رکھنے کا موقع دینے کی بھی تجویز بل میں کی گئی ہے۔

بل کے مقاصد اور وجوہات کے مطابق، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں قومی مذہب ہے جسے وہاں کے آئین کے ذریعہ قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ان ملکوں میں ہندو، بودھ، جین، سکھ، پارسی اور عیسائی مذہب کے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی لوگوں نے ہندوستان آکر پناہ لی ہے اور لمبے وقت سے غیر قانونی طور پر یہیں رہ رہے ہیں اور انہیں غیر قانونی غیر مقیم مانا جاتا ہے۔ اب انہیں ہندوستانی شہریت کے اہل بنانے کے لئے یہ بل لایا گیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close