اپنا دیشتازہ ترین خبریں

شہریت ترمیمی بل مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی سازش

مرکزی حکومت ہٹلر کی روایت پر گامزن، سیکولر برادران وطن کے ساتھ مل کر بل کا متحد ہو کر بائیکاٹ کیا جائے، اسلامک پیس فاؤنڈیشن کا مطالبہ

موجودہ حکومت مستقل اقتدار پر قابض رہنے کے لئے پوری طرح ہٹلر کی روایت پر قائم ہو چکی ہے، مرکز پر مستقل قائم رہنے کے لئے حکومت سارے ملک پر ڈر اور خوف کی بھیانک چادر تاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ شہری ترمیمی بل اسی سازش کا حصہ ہے۔ عوام کو چائیے کہ گاندھی جی کے اصولوں پر چل کر اس بل کا مقاطعہ کریں۔

ان خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن و اسلامک پیس فاؤنڈیشن آف انڈیا کے چیئر مین مولانا سید طارق انور نے اخبارات کو جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات مستقل بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکار اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ملک کے عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھا رہی ہے۔ اس وقت ترقی کی رفتار ٹھپ ہے، معاشی ارتقا پر جمود طاری ہے، بے روزگاری آخری حدوں پر پہنچ چکی ہے اور حکومت کے پاس ان حالات پر قابو پانے کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور نہ اس کی نیت صاف نظر آتی ہے۔

ان حالات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے حکومت نے شہریت ترمیمی بل کا شوشہ چھوڑ کر ملک کو ایک الگ بحث میں الجھا دیا ہے۔ انہوں نے اس بل کو غیر آئینی اور دستور ہند میں مسلمانوں کو دیئے اختیارات کے منافی بتاتے ہوئے کہاکہ اس بل کا نشانہ صرف مسلمان ہیں، حکومت اسے سرکار بنام مسلم بنانے کی کوشش کریگی لیکن مسلمانوں کو چائیے کہ وہ اس سازش کو پوری طرح ناکام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مہاتما گاندھی کے اصولوں پر چل کر آنے والے حالات سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ عدم تشدد اور پر امن مظاہروں کے ذریعے مسلمانوں کو اس بل کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانا چاہیے۔

مولانا طارق انور نے کہاکہ ملک میں جتنی بھی ملی تنظیمیں ہیں انہیں متحد ہوکر ایک پرچم کے نیچے یکجا ہو جانا چاہیے اگر اس وقت بھی ہم لوگ باہمی اختلافات کو دور نہ کرسکے تو پھر کبھی بھی ہم متحد نہیں ہو سکیں گے۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے ملک کے عوام کی اکثریت سیکولر اور صاف ذہن ہے، گنگا جمنی تہذیب ہماری گھٹی میں ملی ہوئی ہے، کثرت میں وحدت ہی اس ملک کی انفرادیت ہے جو اسے ساری دنیا میں ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے ملی جماعت کے سربراہوں سے اپیل کی کہ تمام ملی قائدین ایک جگہ سرجوڑ کر بیٹھ جائیں اور سیکولر ذہن کے برادران وطن کو ساتھ لیکر اس بل کا بائیکاٹ کرنے کے لئے ملک گیر تحریک چلائیں۔

مولانا نے کہا کہ عوام کو نفرت پھیلانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، کچھ لوگ اپنے جیسے ہیں لیکن وہ نفرت کی سازش کرنے والوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، دراصل یہی وہ عناصر ہیں جو ملک کی بہبود کے بہت بڑے دشمن ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close