اپنا دیشتازہ ترین خبریں

شہریت ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش، حق میں 293ووٹ جبکہ خلاف میں پڑے 82ووٹ

اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں آج شہریت ترمیمی بل 2019 پیش کیا جس میں افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے مذہب کی بنیاد پر استحصال کی وجہ سے ہندوستان میں پناہ لینے والے ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، بودھ اور جین طبقے کے لوگوں کو شہریت دینے کا التزام کیا گیا ہے۔

کانگریس، ترنمول کانگریس نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، سماجوادی پارٹی، انڈین یونین مسلم لیگ وغیرہ اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کو مذہب کی بنیاد پر شہریت طے کرکے آئین کے بنیادی مقصد کو مجروح کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس سے آئین کے آرٹیکل پانچ، دس، 14،15 اور 26 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آئین کے کسی بھی آرٹیکل کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ ان تین ملکوں میں اسلام مذہب ہے اور مذہب کی بنیاد پر استحصال غیر اسلامی طبقوں کا ہی ہوتا آیا ہے۔ اس لئے ایسے چھ طبقوں کو ’عقلی درجہ بندی‘ کے تحت شہریت دینے کا التزام کیاگیا ہے جبکہ مسلم طبقے کے لوگ حالیہ ضابطون کے مطابق ہی شہریت کی درخواست کرسکیں گے اور ان پر اسی کے مطابق غور بھی کیا جائے گا۔

وزیرداخلہ کے جواب سے اپوزیشن مطمئن نہیں ہوئی اور اس نے بل پیش کرنے کی تجویز پر ووٹوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا جسے 82 کے مقابلے 293 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا اور مسٹر شاہ نے بل پیش کیا۔ مسٹرشاہ نے آئین کے ان آرٹیکلز کو پڑھ کر سنایا جن کی بنیاد پر اپوزیشن نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بل میں برابری کے حق کی کہیں خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ آرٹیکل 14 میں عقلی درجہ بندی کے التزام کے مطابق 1971 میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے بنگلہ دیش سے آئے لوگوں کو شہریت کا حق دیا تھا، اگر اپوزیشن کی دلیل کو مانا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ انہوں نے پاکستان سے آئے لوگوں کو یہ حق کیوں نہیں دیا تھا۔ یوگانڈا سے آئے لوگوں کو بھی عقلی درجہ بندی کی بنیاد پر شہریت دی گئی تو پھر انگلینڈ سے آئے لوگوں کیوں نہیں دی گئی۔ اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے آسام معاہدہ بھی اسی اصول کی بنیاد پر کیا تھا۔ برابری کے حق کے ساتھ ہی اقلیتی تعلیمی اداروں کو پہچان بھی اسی عقلی درجہ بندی کی بنیاد پر ملی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1950 میں نہرو-لیاقت معاہدہ ہوا تھا جس میں دونوں ملکوں نے اپنے یہاں اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی کی تھی۔ ہمارے یہان اس پر عمل کیاگیا لیکن پاکستان اور بعد پاکستان سے بنے بنگلہ دیش میں ان پر ظلم کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں آج بھی مذہبی اقلیتوں پر ظلم اور ان قتل عام جاری ہے۔ وہاں چن چن کر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس لئے زمینی طور پر ہندوستانی سرحد سے متصل ان تینوں ملکوں کے‘مذہب کی بنیاد پر استحصال کی مار جھیلنے والے اقلیتوں کو شہریت دینے کے لئے یہ بل لایا گیا ہے۔ ”

افغانستان کی جغرافیائی سرحد کے بارے میں اپوزیشن کے اراکین نے مسٹر شاہ کو آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی تو انہوں نے پلٹ کر پوچھا کہ کیا اپوزیشن پاکستان کے قبضے والے کشمیر کو ہندوستان کا حصہ نہیں مانتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قبضے والے حصے میں ہندوستان کی 109 کلومیٹر کی سرحد افغانستان سے لگی ہے۔ مسٹر شاہ نے ایوان کو یقین دلایا کہ ان ملکوں کے مسلمان بھی قانون کی بنیاد پر شہریت کے لئے درخواست کر سکتے ہیں اور ان کی اپیل پر بھی عمل کے مطابق غور کیاجائے گا۔ اس پر کوئی روک نہیں لگے گی۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ وہ اپوزیشن کے اراکین کے بل کے مواد سے جڑے سبھی سوالوں کا جواب بل پر بحث کے دوران تٖفصیل سے دیں گے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک اپوزیشن اراکین کی مخالفت اور آئین کے بنیادے جذبے کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد مسٹر شاہ کو جواب دینے کا موقع ملا۔ جواب کے بعد جب انہوں نے بل کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت مانگی تو اپوزیشن کے کئی اراکین نے ووٹوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ ووٹوں کی تقسیم میں 375 اراکین نے حصہ لیا جن میں سے 82 نے مخالفت میں اور 293 نے اس کے حق میں ووٹ کیا۔ اپوزیشن کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک مخالفت کرنے کے دوران کئی باربرسر اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان الزام تراشی کی وجہ سے ماحول بہت خراب ہوگیا۔ لیکن اسپیکر اوم برلا نے سبھی اپوزیشن اراکین کو بولنے کا موقع دیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close