اپنا دیشتازہ ترین خبریں

شمال مشرقی ہند: کرفیو میں نرمی، احتجاجی مظاہرے جاری، اب تک 6 کی موت

شمال مشرقی ریاستوں میں شہریت ترمیم قانون کو لے کر جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان اتوار کو چھٹی والے دن گوہاٹی میں سڑکوں پر کافی چہل پہل دیکھی جا رہی ہے۔ حالات آہستہ آہستہ معمول پر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرفیو والے علاقوں میں انتظامیہ ڈھیل دے رہا ہے۔ اتوار کو بھی گوہاٹی میں صبح نو سے شام چھ بجے اور ڈبروگڑھ میں صبح سات سے شام چار بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی ہے۔

اس درمیان اب بھی کچھ علاقوں میں حالات کشیدہ دیکھے جا رہے ہیں۔ گوہاٹی، ڈبروگڑھ، جورہاٹ، تنسو کیا، تیج پور وغیرہ اضلاع میں مظاہرین کے تشدد مظاہرے کے پیش نظر بدھ کی شام اور جمعرات کو قسط وار کرفیو لگایا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے عام معمولات زندگی مکمل طور پر متاثر ہو گیا۔ اتوار مسلسل دوسرے دن صورت حال میں بہتری ہوتے دیکھا جا رہا ہے۔ کرفیو والے علاقوں میں دن کے وقت انتظامیہ نے ڈھیل دی ہے، جس کی وجہ سے اتوار ہونے کے باوجود دکانیں کھل گئیں اور سڑکوں پر نجی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ عوامی گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی عام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اس دوران گذشتہ جمعرات کو مشتعل مظاہرین کے ساتھ دارالحکومت کے ڈاؤن علاقے میں ہوئی پرتشدد جھڑپ میں زخمی ایک اور نوجوان کی گزشتہ رات 09.55 بجے موت ہو گئی۔ اس طرح شہریت ترمیم ایکٹ (سی اے اے) کی مخالفت کو لیکر شروع ہوئے تحریک کے پرتشدد ہونے کے نتیجے غیر رسمی طور پر 6 افراد کی موت ہو گئی۔ اگرچہ رسمی طور پر ہفتہ کو انتظامیہ نے دو لوگوں کے مرنے کی تصدیق کی تھی۔

ڈاون ٹاؤن میں پرتشدد تحریک میں زخمی ادال گوڑی کے ماجلی باغان رہائشی پرمیشور نائک کی گزشتہ رات گوہاٹی میڈیکل کالج ہسپتال میں موت ہوگئی جبکہ چھ سے زائد افراد کو اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ آسام پولیس ڈائریکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ پورے حالات پر قریب سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تحریک کے دوران تشدد پھیلانے والے لوگوں کی ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر پولیس کی خصوصی ٹیم شناخت کر رہی ہے۔ کسی بھی فساد پھیلانے والے کو چھوڑا نہیں جائے گا۔

کامروپ (میٹرو) ضلع انتظامیہ نے گوہاٹی میں اتوار کی صبح 9 سے شام 6 بجے تک کرفیو میں نرمی دی ہے۔ اتوار کا دن ہونے کے چلتے لوگ اپنے گھروں سے نکل کر کھانے پینے کے سامانوں کی خریداری میں لگ گئے ہیں۔ خاص طور پر دارالحکومت میں اتوار کو لگنے والی ہفتہ وار سبزی منڈیوں میں مکمل طور پر چہل پہل دکھائی دے رہا ہے۔ چھٹی کا دن ہونے کے باوجود سڑکوں پر سٹی بسوں سمیت تمام طرح کی گاڑی چل رہے ہیں۔ شہر میں مکمل طور پر چہل پہل نظر آنے لگی ہے۔ تشدد متاثر ڈبروگڑھ ضلع میں کرفیو میں صبح 7 سے شام 4 بجے تک رعایت دی گئی ہے۔ ہفتے کے روز سے عام طور پر ریاست کے تمام حصوں میں حالات معمول پرہیں۔ اگرچہ مختلف تنظیموں کے لوگ شہریت ترمیم قانون کی پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔

آل آسام اسٹوڈینٹس یونین (آسو) کے اعلان پر شہریت ترمیم قانون کی مخالفت میں شروع ہوئی تحریک میں کئی تنظیمیں حصہ لے ر ہی ہیں۔ اب یہ بھی الزام لگا ہے کہ کچھ شرارتی عناصر تحریک کو پرتشدد بنانے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ اس میں کتنی سچائی ہے، اس کی جانچ پڑتال کا موضوع ہے۔ نئے قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں آسو سمیت کل 15 عرضیاں داخل کی گئی ہیں، جن پر 18 دسمبر کو پہلی سماعت ہوگی۔ اسکول اور کالجوں کو آئندہ 22 دسمبر تک بند کر دیا گیا ہے۔ سرکاری کام کاج بھی مکمل طور پر ٹھپ دکھائی دے رہا ہے۔ پر تشدد تحریک کو روکنے کے لئے پولیس کی طرف سے کی گئی لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ میں گوہاٹی میں چار اور ڈبروگڑھ میں ایک شخص کی موت ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

قانون و انتظام کے محکمہ پولیس میں کافی تبدیلی کی گئی ہے۔ مرکزی نیم فوجی دستے اور کچھ علاقوں میں فوج کے جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔کامروپ (میٹرو) ضلع انتظامیہ نے بتایا ہے کہ حالات تیزی سے عام ہو رہے ہیں۔ اگر صورت حال یہی بنی رہی تو بہت جلد کرفیو کو ہٹا لیا جائے گا۔ ریاست موبائل انٹرنیٹ سروس اگلے پیر کی شام سات بجے تک بند ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے بند ہونے سے میڈیا کو کافی دقتیں ہو رہی ہیں۔ انتظامیہ نے کئی تنظیموں کے بڑے رہنماؤں کو گرفتار کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close