اپنا دیشتازہ ترین خبریں

شتروگھن سنہا نے تھاما کانگریس کا ’ہاتھ‘، کہا- بی جے پی ’لوک شاہی‘ سے ’تاناشاہی‘ میں بدل گئی

مشہور اداکار شتروگھن سنہا نے ہفتہ کو کانگریس کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ انہوں نے آج کانگریس ہیڈ کوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال، پارٹی کے مرکزی ترجمان رنددیپ سنگھ سرجے والا اور بہار کے پارٹی انچارج شكتی سنگھ گوہل کی موجودگی میں پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔

مسٹر سنہا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ٹکٹ پر 2014 میں لوک سبھا پہنچے تھے اور وہ کافی عرصے سے پارٹی قیادت سے ناراض تھے. گزشتہ ماہ کانگریس صدر راہل گاندھی سے مسٹر سنہا نے ان کی رہائش گاہ پر یہ ملاقات کی تھی اور تب ہی سے ان کے کانگریس میں شامل ہونے کی امید کی جارہی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے خود طے کیا تھا کہ وہ نوراترکے آغاز میں 6 اپریل کو کانگریس میں شامل ہوں گے۔

بتا دیں کہ شتروگھن سنہا نے اس موقع پر منعقد پریس کانفرنس میں وزیراعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ بی جے پی میں صرف ایک شخص کی ’تاناشاہی‘ چل رہی ہے جو کسی اور کی بات نہیں سنتے ہیں اس لیے انہوں نے کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں انہوں نے ناناجی دیشمکھ جیسے قدآور سیاسی رہنما سے سیاست سیکھی اور اٹل بہاری واجپئی جیسے بڑے رہنما کے ساتھ کام کیا۔ بی جے پی جن لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، جسونت سنگھ، یشونت سنہا جیسے بڑے رہنماؤں کی قیادت میں آگے بڑھی اور آج انہی سب بڑے رہنماؤں کو غیر فعال ’مارگ درشک منڈل‘ میں ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی میں انہوں نے پانچ برس کے دوران بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ ایک شخص کی وجہ سے یہ پارٹی لوک شاہی سے تاناشاہی میں بدل گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ شخص کسی کی سننے کو تیار نہیں ہے۔ اسے جو بھی صلاح دی جاتی ہے اسے سننے کے بجائے صلاح دینے والے کو باغی ماننے لگتا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close