تازہ ترین خبریںدلی نامہ

’شاہین صفت خواتین ملک کے لئے اور سماجی انصاف قائم کرنے کیلئے باہر نکلی ہیں‘

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ، جامعہ نگر اور دہلی کی خواتین کے جاری مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مشہور عالم دین اور مفکر مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے کہا کہ یہ شاہین صفت خواتین ملک کے لئے اور سماجی انصاف قائم کرنے کے لئے سخت سردی کے موسم میں باہر نکلی ہیں کامیابی ضروری ملے گی۔

انہوں نے اسی جوش و جذبے کے ساتھ اس لڑائی کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ آپ نے جو لڑائی چھیڑی ہے یہ ایک طرح سے آزادی کی لڑائی ہے اور یہ لڑائی صرف قانون میں تبدیلی سے ختم نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے مکمل مسترد کرنے اور مکمل واپسی تک جاری رہنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس قانون میں کوئی تبدیلی کامطالبہ نہیں کرنا ہے بلکہ مکمل واپسی کا مطالبہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں قانون قومی شہریت ترمیمی قانون، این آرسی اور این پی آر کی واپسی کا مطالبہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آزدی کے بعد ملک اپنی منزل سے دور ہوتا چلا گیا۔ آزادی کی لڑائی لڑنے والے سورماؤں نے جو خواب دیکھا تھا جس میں سب کے لئے مساوات ہوگا، سب عزت ہوگی، اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی۔ خواتین کی عزت ہوگی اور یکساں تعلیم کے مواقع ہوں گے لیکن یہ خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ نہ مزدورو ں کو ان کا حق ملا اور نہ کسانوں کو ان کے حقوق ملے۔

مولانا نے اس موقع پر دلت کے لفظ کے استعمال کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہاکہ قران نے بھی منع کیا ہے کسی شخص یا سماج کو اس لفظ سے مخاطب مت کرو جس سے اس شخص کو اچھا نہ لگے۔ جب آئین نے اسے ایس ٹی ایس سی، او بی سی وغیرہ کانام دیا ہے۔ ہزاروں سال سے غلامی کی چکی میں پسنے والوں کو آئین نے حقوق دئے۔ اس لئے ہمیں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی وغیرہ کے نام سے پکارا جانا چاہئے۔ یہ قانون ان لوگوں کے بھی خلاف ہے۔

مولانا نعمانی نے ہندوستانی شہری ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جب میں سعودی عرب یا دیگر مسلم ممالک جاتا تھا تو مجھے ہندوستانی شہری ہونے پر فخر ہوتا تھا کیوں کہ ان ممالک میں وہ آزادی حاصل نہیں ہے جو ہندوستان میں حاصل تھی۔ انہوں نے کہاکہ آج ہندوستان میں وہ لوگ حکومت میں آگئے ہیں جو تنگ ذہن ہیں اور جو ہندوستان کی عظمت کو نہیں جانتے۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک کو چلانے کے لئے سات سمندر جیسا وسیع دل چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت لڑائی آئین کو بچانے کی ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کو سمجھداری اور بہادری سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ جو سمجھداری بہادری کے بغیر ہوتی ہے وہ بزدلی بن جاتی ہے اور جو بہادری بغیر سمجھداری ہوتی ہے وہ آگے چل کر آگ بن جاتی ہے۔ انہوں نے قوم کی زندگی میں عروج و زوال کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت تک کوئی قوم آگے نہیں بڑھتی جب تک اس کے سامنے چیلنجز نہیں ہوں۔ چیلنجز کو مواقع گردانیں اور اس کا مقابلہ کریں۔

ہندو سینا کے لیڈر سنت یووراج نے کہا کہ قومی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ مسلمانوں کو مشتبہ ووٹر بنادیں گااور ووٹوں کا حق چھین لینے کے سمت میں ایک قدم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح مودی نے کانگریس مکت تحریک شروع کی تھی اسی طرح اب بی جے پی مکت تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے شاہن باغ خواتین سے کہاکہ آپ کی تحریک رائیگاں نہیں جائے گی اور حکومت آپ کے مطالبے کو ماننے پر مجبور ہوگی۔

سکھ لیڈر ڈی وی سنگھ نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں اس قانون کے خلاف لہر چل رہی ہے اور سکھ برادری اس وقت مسلمانوں کے ساتھ کاندھا سے کاندھا ملا کر چلنے کو تیار ہے۔ اس وقت وہ کسی بھی صورت میں اکیلا محسوس نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ میں شاہین باغ کی خواتین کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے اس سخت ترین سردی کے موسم میں بھی احتجاج کی شمع کو روش کئے ہوئے ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اطراف میں میٹرو کے کھمبے کے دہلی کے مختلف مقامات سے آنے والے طلبہ اور دیگر سماجی کارکن قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف نعرے لگاتے نظر آئے۔ اس کے علاوہ وہیں بچوں کا گروپ بھی آزادی کے حق میں نعرہ لگاتا نظر آئے گا۔ چھوٹے چھوٹے گروپ میں بچے اور لڑکے لڑکیاں مظاہرہ کرتی نظر آئیں گی۔

وہاں کا نظام دیکھنے والوں میں سے ایک محترمہ صائمہ خاں نے بتایا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے اس مظاہرہ میں شریک ہوکر خواتین کا حوصلہ بڑھارہے ہیں۔ جامعہ نگر مجسم احتجاج نظر آرہا ہے۔ اسی کے ساتھ جامعہ نگر کے ذاکر نگر ڈھلان پر مغرب بعد خواتین بڑی تعداد میں کینڈل جلاکر قومی شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین کا دائرہ وسیع ہورہا ہے اور دہلی کے جعفر آباد سیلم پور میں بھی خواتین اس قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے ملک کے دیگر حصوں اور جمشید پور سے بھی خواتین کے مظاہرہ کرنے کی خبریں ہیں۔ اس کے علاوہ پٹنہ، گیا، کلکتہ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی خواتین مظاہرین قومی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close