اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’شاہین باغ نے ملک کو ایک نئی سمت اور ہندومسلم اتحاد کا پیغام دیا ہے‘

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج بی ڈی نقوی نے کہاکہ جمہوری ہندوستان میں احتجاج اور تحریک چلانا بنیادی حق ہے اور یہ حق ہندوستانی آئین دیتا ہے۔ انہوں نے شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے وہ شمع روشن کی ہے جس کی روشنی پورے ملک میں پھیل رہی ہے اور آپ کی پھیلائی ہوئی روشنی سے پورا ملک روشن ہے۔ آپ کی تحریک کی وجہ سے آج ملک میں سیکڑوں شاہین باغ بن چکے ہیں اور اس میں روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جو لڑائی آپ نے چھیڑی ہے اسے نتیجہ تک جاری رکھنا ہے اور بغیر نتیجہ کے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹانا ہے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کر پڑپوتے رتن راج امبیڈ کر نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ لڑائی ہمارے لئے بھی لڑ رہی ہیں کیوں کہ اس قانون سے سب سے زیادہ نقصان ایس سی ایس ٹی اور کمزور طبقہ کو ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی منشا کو سمجھنے کی ضرورت ہے اس نے مسلمانوں کے بہانے دلت سماج پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بابا صاحب کے بنائے ہوئے آئین کو بچانے کا معاملہ ہے اور شاہین باغ کی خواتین آئین کو بچانے کے لئے نکلی ہیں۔

پانی پت سے آنے والے سماجی کارکن جن ابھیان منچ کے صدر پی پی کپور نے اس موقع پر کہاکہ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر 135کروڑ عوام پر حملہ ہے۔ یہ کہناکہ اس قانون سے صرف مسلمان متاثر ہوں گے سخت غلط فہمی والی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان سے زیادہ یہاں ہندو عوام پریشان ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کا اصل مسئلہ بیروزگاری، تعلیم، صحت اور معاش ہے لیکن حکومت ان تمام مسائل پر توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کا قانون لے کر آئی ہے۔ مسٹر کپور نے کہاکہ آزادی کے بعد 73سال بعد بھی اگر ہم لوگوں سے شہریت کے ثبوت مانگے جاتے ہیں اس سے شہریوں کی توہین اور نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت آسام میں این آر سی نافذ کرکے پہلے ہی ناکام ہوچکی ہے اور اب پورے ملک میں اس طرح کا تجربہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا ملک سیکولر ہے اور اس میں امتیازی قانون کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور سی اے اے،این آر سی اور این پی آر مذہب پر مبنی قانون ہے۔

کرناٹک سے آنے والے کرناٹک فارمر ایسوسی ایشن کے نائب صدر خدیر (قدیر) بھارتیہ نے کہاکہ ہمیں آئین نے مساوی شہری تسلیم کیا ہے۔ اس میں کسی مذہبی بنیاد پر امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس کے باوجود حکومت نے غیر آئینی کام کیا ہے۔ انہوں نے شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ خاتون مظاہرین نے ملک کو ایک نئی سمت اور ہندومسلم اتحاد کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ موجودہ حکومت نے ہندو مسلم کرکے دونوں فرقوں کو الگ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان خواتین ان کے منصوبے پر پانی پھیر دیا ہے اور خوشی کی بات ہے کہ اس تحریک نے ہندو مسلم کو ایک کردیا ہے۔ اسی کے ساتھ رشید خاں بہار، محمودہ خاتون شبیر کرناٹک اور سکندراعظم نے بھی خطاب کیا۔

مالویہ نگر کے علاقے میں گاندھی پارک میں بھی مسلسل خواتین کا احتجاج جاری ہے۔ اسی علاقے میں ایک دیگر جگہ حوض رانی پارک میں بھی خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ وہاں پر موجودسماجی کارکن محترمہ ملکہ نے بتایا کہ یہاں پولیس نے پہرہ بٹھا دیا ہے اورکسی اور خاتون پارک کے اندر جانے نہیں دے رہی ہے۔ بہت سی خاتون مظاہرہ میں شریک ہونا چاہتی ہیں لیکن پولیس نے زبردستی سب کو روک رکھا ہے تاکہ مظاہرہ میں زیادہ خواتین جمع نہ ہوسکیں۔ محترمہ ملک نے بتایا کہ حالانکہ خاتون پرامن مظاہرہ کررہی ہیں اور آگے بھی پرامن کرنا چاہتی ہیں لیکن پولیس اسے ناکام بنانے پر تلی ہوئی ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج جاری ہے اور دن بہ دن اس میں شدت آرہی ہے،طلبہ اور طالبات احتجاج میں نئے نئے رنگ بھر رہی ہیں۔ احتجاجی آرٹ کے ایک سے ایک نمونے پیش کئے جارہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس بربریت کے بعد سے 15دسمبر سے احتجاج جاری ہے اور یہاں بھی 24 گھنٹے کا دھرنا جاری ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں خواتین مظاہرین کا دائرہ پھیل گیا ہے اور دہلی میں درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ جڑ رہی ہے، نظام الدین میں خواتین نے مظاہرہ کیا ہے۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہرہ کی تعداد میں ضافہ ہوتا جارہاہے اور اب یہ مظاہرہ دہلی کے بیشتر علاقوں میں پھیل چکا ہے۔شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔

خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ خوریجی خواتین کا مظاہرہ ہر روز خاص ہورہا ہے۔گزشتہ رات کانگریس کے اقلیتی سیل کے صدر ندیم جاوید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں خواتین کو سلام کرتا ہوں، آپ کے جذبے کو، آپ کی ہمت کو آپ نے ملک میں سیکڑوں شاہین باغ بنادیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج وہ لوگ حب الوطنی کی بات کرتے ہیں جنہوں نے جنگ آزادی میں کبھی حصہ نہیں لیا تھا اور یہی لوگ آج مشترکہ ثقافت اور تہذیب کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ آج کے مقررین میں طارق انور سابق مرکزیر وزیر، سبھاشنی علی سابق رکن پارلیمنٹ، محمد طارق صدیقی صدر اے ایم یو اولڈ بوائز لکھنؤ، اتل کمار انجان سی پی آئی لیڈر اور انکت گپتا (شاعر) شامل ہیں۔ دہلی میں اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر’سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک اوربیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمت ملک تقریباً سو سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔

اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے باوجود خواتین نے گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ پولیس نے احتجاج ختم کرانے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں اس کے باوجود خواتین کا جوش و خروش کم نہیں ہوا ہے۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے اور عام لوگ ضرورت چیزیں خواتین کو پہنچاتے ہیں۔دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے اور یہاں شدت سے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہارکی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔

گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ‘دہلی،۔ آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی‘۔ سیلم پور فروٹ مارکیٹ، دہلی،۔ جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا، رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار’۔ سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ‘۔ شانتی باغی گیا بہار،۔ مظفرپور بہار،۔ارریہ سیمانچل بہار،۔ بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج’بہار،۔ مغلا خار انصارنگر نوادہ بہار،۔ مدھوبنی بہار،۔ سیتامڑھی بہار،۔ سیوان بہار،۔ گوپالگنج بہار،۔ کلکٹریٹ بتیا مغربی چمپارن بہار،۔ ہردیا چوک دیوراج بہار،۔ نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر،۔ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر،۔ آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔ پونہ مہاراشٹر۔ ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر،۔ سرکس پارک کلکتہ،۔ قاضی نذرل باغ مغربی بنگال،۔ اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، 35۔روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپور-یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،۔ کوٹہ راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور،احمد آباد گجرات، منگلور کرناٹک، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔

اجمیر میں بھی خواتین کا احتجاج شروع ہوچکا ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، لوہر دگا، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات پرخواتین کا مظاہرہ ہورہا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین شامل ہورہی ہیں۔ اسی کے ساتھ رانچی کے ساتھ کڈرو میں خواتین بڑی تعداد میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ اس قانون سے سب سے زیادہ نقصان قبائلی سماج کا ہوگا۔ سمستی پور کے تاج پور خواتین مظاہرے میں یہ بات کہی گئی کہ ہماری لڑائی ان طاقتوں سے جو ہمارے بچوں کے مستقبل کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close