تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

شاہین باغ میں زین العابدین کی بھوک ہڑتال 24ویں بھی رہی جاری

خواتین مظاہرین کی حمایت میں جامعہ سے شاہین باغ تک ہزاروں خواتین کا مارچ ٭جے این یو میں طلبہ و طالبات پر حملہ کو کہا منظم سازش

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں شاہین باغ میں مسلسل 23 روز سے جاری احتجاج مزید وسیع ہو تا جا رہا ہے۔ وہیں آج 23ویں روز بھی زین العابدین کی بھوک ہڑتال جاری رہی۔ حالانکہ پولیس کی جانب سے اس کو ختم کرانے کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے، جس کا نظارہ گزشتہ شب میں پولیس کی جانب سے وہاں بیریکیٹس ہٹائے جانے کی کوشش میں دیکھنے کو ملا، لیکن پولیس کی یہ کوشش رات و دن دھرنے پر بیٹھی خواتین کے مضبوط ارادوں بدل نہ سکی۔ شاہین باغ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو گودوں میں لئے خواتین، معمر خواتین کی حمایت میں آج اوکھلا اور دیگر علاقوں کی ہزاروں گھریلوں خواتین اور طالبات نے جامعہ سے شاہین باغ تک پیس مارچ نکالا۔

واضح رہے کہ 15دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری اور لڑکیوں کے ہاسٹل میں پولیس کی بربریت، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کی وحشیانہ کاررائی اور سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جامعہ نگر، شاہین باغ اور پوری دہلی کی خواتین 16دسمبر سے کالندی کنج سریتا وہار روڈ پر رات و دن کا دھرنا دے رہی ہیں۔ وہیں گزشتہ روز جے این یو میں طلبا و طالبات پر غنڈوں کے حملے کی بھی جم کر مخالفت کی گئی۔

گزشتہ 23روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے زین العابدین نے کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون، این آرسی یا این آر پی صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ہر غریب، کمزور طبقہ، دلت اور قبائلی کے خلاف ہے اور اس کے خلاف شاہین باغ میں پرامن احتجاج چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے این یو میں طلبہ پر حملہ شاہین باغ خواتین مظاہرین کو ختم کرنے کے لئے کیا گیا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ان کی بھوک ہڑتال کا آج 24واں دن ہے لیکن نہ تو دہلی حکومت کا کوئی نمائندہ نہ ہی مرکزی حکومت کا کوئی افسر اس سے ملنے آیا ہے یہاں تک آج تک کوء ڈاکٹر بھی دیکھنے نہیں آیا ہے۔

یہاں خواتین نے جے این یو میں طلباء و طا لبات پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ کئے گئے خونی حملے کی بھی جم کر مذمت کرتے ہوئے اسے فسطایت کا حملہ بتایا۔ جے این یومیں طلبہ و طالبات پر حملہ کو منظم سازش قرار دیتے ہوئے شاہین باغ خاتون مظاہرین میں شامل معمر خواتین نے الزام لگایا کہ یہ حملہ مودی اور امت شاہ کے اشارے پر کیاگیا ہے تاکہ شاہین باغ خواتین مظاہرین کو یہاں سے منتشر کیا جاسکے۔ یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس مین برزگ خاتون ترنم نے کہاکہ جے این یو طلبہ و طالبات اور وہاں کے اساتذہ کے ساتھ جس طرح بربریت کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ بہت ہی شرمناک ہے۔ اس طرح کے تشدد کا ایک ہی مقصد ہے کہ یہ بچے پڑھ لکھ کر حکومت سے سوال نہ کریں۔

انہوں نے کہاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی اسی طرح کی ظالمانہ کارروائی کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جے این یو میں جو کچھ ہوا ہے اس کا ماسٹر مائنڈ امت شاہ ہے جو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ سروری بیگم نے کہاکہ ذلت کی زندگی سے ہم عزت کی موت مرنا پسند کریں گے، ہم لوگ کبھی گھروں سے باہر نہیں نکلیں لیکن معاملہ اب ملک کا ہے اور ہمارے آئین کے تحفظ کا ہے اس لئے ہم لوگ گھر سے نکلی ہیں۔ گل بانو نے جے این یو میں حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے بچوں کو یونیورسٹیوں میں مارا جائے گا پیٹا جائے گا تو ہم اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے کہاں بھیجیں۔

انہوں نے کہاکہ 1947سے پہلے جنگ آزادی کے دوران کالج کے طلبہ بھی مظاہرے اور جلسے جلوس میں شریک ہوتے تھے اگر آج طلبہ شریک ہورہے ہیں تو حکومت ظلم و تشدد پر اتر آئی ہے۔ رضوانہ نے کہا کہ حکومت ایک طرف بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگاتی ہے اور دوسری یونیورسٹیوں میں بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ یہاں اسی وقت ہٹیں گے جب ہمارا یہا ں دم ٹوٹ جائے گا۔ بزرگ خاتون مہر النساء نے کہاکہ ہمیں حکومت سے کوئی شکایت نہیں ہے بس یہ کالا اور آئین مخالف قانون واپس لیا جا ئے۔ پراچی پانڈے نے اس مظاہرہ میں ہندو مسلم‘،سکھ، عیسائی سب شامل ہیں یہ لڑائی سب مل کر لڑیں گے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close