تازہ ترین خبریںدلی نامہ

شاہین باغ سے بوکھلائی بی جے پی

منیش سسودیا کے ساتھ کھڑے ہونے کے بیان پر بھڑکی بی جے پی

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی علامت بن چکے شاہین باغ میں گزشتہ 40 روز سے دن رات جاری ہر مذہب کی خواتین کا دھرنا بدستور جاری ہے۔ شاہین باغ کی طرز پر راجدھانی دہلی سمیت پورے ملک میں ایک دو نہیں بلکہ کئی شاہین باغ بن گئے ہیں۔ جہاں ہر مذہب کی خواتین، مرد بوڑھے جوان، طلبا و طلبات کالے قانون کے خلاف بلند حوصلوں کے ساتھ سینہ سپر ہیں اور مظاہرین اپنے ہدف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ سی اے اے کی حمایتی تشہیر کیلئے مرکزی حکومت نے اپنے تمام وزراء، ایم پی، ایم ایل اے اور دیگر لیڈران و کارکنان کو لگانے کے باوجود بی جے پی کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے، جس سے بی جے پی میں زبردست بوکھلاہٹ پیدا ہوگئی ہے۔

سی اے اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں شاہین باغ میں تقرباً 40دن سے جاری دھرنے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور بدنام کرنے سمیت پر امن دھرنے کو ختم کرانے کی بی جے پی حکومت اور انتظامیہ کی ناکام ہوتی تمام ترکیبوں اور ہر داؤ کو پٹتا ہوا دیکھ کر بی جے پی بوکھلا گئی ہے اور اب اس کو سیاست سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شاہین باغ میں آئین کی حفاظت کیلئے جاری دھرنے کی حمایت میں منیش سسودیا کے بیان ’میں شاہین باغ کے ساتھ کھڑا ہوں‘ پر بی جے پی کی بو کھلاہٹ اتنی زیادہ ہوگئی کہ بی جے پی کے سابق ایم پی وجے گوئل نے شاہین باغ کو ’شیم باغ‘ تک کہہ ڈالا۔

بی جے پی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وجے گوئل اور سمبت پاترا میں وہ بوکھلاہٹ صاف دکھائی دے رہی تھی جس میں انہوں نے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنایا کہ صرف اور صرف ووٹ بینک کی سیاست کرنے کے لئے منصوبہ بند طریقے سے شاہین باغ کا دھرنا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

اروند کجریوال پرنشانہ لگا تے ہوئے وجے گوئل نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلی کجریوال نے سوشل میڈیا پر کہا کہ آندولن کرو تاکہ لوگ بھڑکیں۔ منیش سسودیا کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے گوئل نے کہاکہ یہ وہی عام آدمی پارٹی کے رہنما ہیں جنھوں نے سی اے اے پر دہلی کے عوام کو بھڑکایا اور اکسایا ہے۔ ’آپ‘ لیڈران امانت اللہ خان اور سیلم پور کے ممبر اسمبلی حاجی اشراق پر کانگریس کے ساتھ مل کر لوگوں کو بھڑکانے اور اکسانے کا الزام لگایا۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس پہلے روز سے ہی سی اے اے،این آر سی، این پی آر کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ وزیر اعلی اروند کجریوال نے بھی آج کہا کہ ہم نے اور ہماری پارٹی نے ہمیشہ سی اے اے کی مخالفت کی ہے۔ ہم نے اس کی مخالفت پارلیمنٹ میں کی ہے، میں نے ہر انٹرویو اور ریلی میں اس کی مخالفت کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں ہر مذہب کی خواتین اور دانشور، سیکولر افراد شامل ہیں، لیکن بی جے پی کی کوشش جاری ہے کہ کسی بھی طرح یہاں ہندو مسلمان کی دیوار کھڑی کرکے اس کو سیاسی رنگ دیدیا جائے۔ مگر ان کا ہر داؤ پٹ رہا ہے اور شاہین باغ میں ہر عمر کی خاتون مظاہرین، جن میں دودھ پیتے بچوں کی مائیں بھی شامل ہیں، سردی، برسات اور گھر بار کی پرواہ کئے بغیر اپنے ملک کے آئین کے تحفط کیلئے گزشتہ ایک ماہ سے زاید عرصے سے رات و دن جمی ہوئی ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close