اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’شاہین باغ‘ بند ہوگیا تو پورے ملک کے ’شاہین باغ‘ کے ساتھ دھوکہ ہوگا: مظاہرین

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے قانون واپس لئے بغیر روڈ کھولنے کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگر یہ شاہین باغ بند ہوگیا تو پورے ملک کے شاہین باغ کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔ یہ بات خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار کے سامنے کہی۔

مظاہرین نے کہاکہ جب ہم یہاں بیٹھی ہیں تو پریشانی ختم نہیں ہو رہی ہے اور حکومت ہماری بات نہیں سن رہی ہے تو دوسری جگہ مظاہرہ منتقل کرنے کے بعد تو حکومت اور بھی ہماری بات نہیں سنے گی۔ جب سخت ترین سرد راتوں میں ہم یہاں بیٹھی رہیں تو حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی اور اس کے برعکس ہمیں بدنام کیا گیا، ہمیں دہشت گرد کہا گیا، پانچ سو روپے لیکر بیٹھنے والی کہا گیا طرح طرح کی باتیں کرکے ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بدنام کرنے والوں میں امت شاہ سے لیکر دیگر وزراء شامل ہیں لیکن ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔

ایک دیگر خاتون نے کہاکہ وزیر داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ بٹن اتنا زور سے دباؤ کہ کرنٹ شاہین باغ کو لگے، ایک دوسرا وزیر کہتا ہے کہ ملک کے غداروں کو گولی مارو…..اور اسی طرح کے دل آزار اور خلاف قانون نعرے لگائے جاتے رہے لیکن کارروائی کسی کے خلاف نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ یہاں جمہوریت کس قدر کمزور ہوگئی ہے کہ گولی چلانے والوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے امتیاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اگر کوئی چلانے والا کوئی مسلمان ہوتا ہے تو پولیس کیا کرتی۔ انہوں نے کہاکہ گولی چلانے والوں اور برقعہ پہن کر آنے والی کو بغیر کوئی تکلیف پہنچائے ہم انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔

انہوں نے جامعہ میں پولیس کی بربریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ایک طرف بیٹی پرھاؤ اور بیٹی بچاؤں کا نعرہ لگاتی ہے لیکن جب یہی بیٹی اپنے مطالبات کو لیکر سڑکوں پر اترتی ہے کہ انہیں پولیس سے پٹواتی ہے، ان کے حساس اعضاء پر حملے کرواتی ہے۔ ہمیں گولی مارنے کی بات کہی جاتی ہے، کیا ہم ہندوستانی نہیں ہیں۔ آخر ملک میں کون سا قانون چل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں دو ماہ سے مینٹل ٹارچر (ذہنی اذیت) کیا جا رہا ہے۔ جس چینل کو دیکھتی ہوں وہی ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں، ٹکڑے ٹکڑے گینگ کہتے ہیں، ملک کے ٹکڑے ٹکرے کرنے والے کہا جاتا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے مذاکرات کار کو کہا کہ ہم سڑکوں پر آئیڈیا آف انڈیا کو بچانے آئے ہیں۔ خاتون مظاہرین نے کہاکہ راستہ بند ہونے سے ہونے والی تکلیف کا احساس ہے اور اس سے ہم لوگ بھی متاثر ہیں لیکن کل ملک کے غریب، پسماندہ، قبائلی، دلت سماج اور اقلیتوں کو پریشانی ہونے والی ہے یہ تکلیف اس کے سامنے کچھ نہیں ہے۔

دو ہندو خاتون جو مظاہرہ میں شروع سے حصہ لے رہی ہیں، کہا کہ ہم ہندو ہیں اور ہم اس سیاہ قانون کے خلاف ساتھ دینے آئی ہیں کیوں کہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ہر کمزور طبقہ کا ہے اور ہمارے وجود کی لڑائی ہے اس لئے ہم ڈتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اس قانون کو واپس لے لیتی ہے ہم آدھے گھنٹے کے اندر راستہ کھول دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت میں بیٹھے کچھ لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کیا یہ منی پاکستان ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج یہاں شاہین باغ پورے ہندوستان کا تاج بن چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کی علا مت ہے اور اس کے نتیجے میں آج ملک کے کونے کونے میں سیکڑوں شاہین باغ ہے۔ اگر ہم نے بغیر منزل کے اس شاہین کو ختم کیا یا یہاں سے اس دھرنا کو منتقل کیا تو اس کا منفی اثر دوسرے شاہین باغوں پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کا مظاہرہ خواہ بھی ہورہا ہو لیکن ہر جگہ شاہین باغ کے نام سے ہی مظاہرہ ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہاں اپنے حقوق کا دفاع، ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کے لئے سڑکوں پر ہیں نہ کہ کوئی جشن منانے کے لئے کہ مظاہرہ کو کہیں منتقل کرلیں۔

سپریم کورٹ کے مذاکرات کار مقرر کئے جانے کے بعد آج سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اورسادھنا رام چندرن نے آج یہاں شاہین باغ مظاہرین نے درمیان ان کا موقف جاننے کے لئے یہاں آئے تھے اور انہوں نے کھل کر بات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کی بات سننے آئے ہیں اور آتے رہیں گے۔ یہ موقع ہمارے پاس اتوار یعنی 23فروری تک ہے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کے مظاہرے کو سنجیدگی سے لیا ہے اسی لئے اس نے مذاکرات کار کے طور پر ہمیں بھیجا ہے۔ہم آپ سپریم کورٹ کو آپ کی تکلیف اور موقف سے آگاہ کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ کورٹ کے آپ کے حق کو پہچانا ہے اور مظاہرہ کرنا آپ کا جمہوری حق ہے یہ بات سپریم کورٹ نے بھی مانی ہے۔ محترمہ سادھنا رام چندر نے خواتین مظاہرین کا اس بات کیلئے شکریہ ادا کیا ہے کہ آپ نے عدالت پر اعتماد کیا ہے۔ سنجے ہیگڑے نے خاتون مظاہرین کی بات سے متاثر ہوتے ہوئے کہا کہ جب تک آپ جیسی خاتون اور لڑکیاں موجود ہیں اس وقت ملک کی جموریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔

قبل ازیں مسٹر ہیگڑے نے سب سے پہلے مظاہرین کو عدالت عظمی کا فیصلہ انگریزی میں پڑھ کر سنایا اس کے بعد محترمہ رام چندرن نے پھر سے ہندی میں فیصلہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔محترمہ رام چندرن نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہاکہ احتجاجی مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے لیکن اس سے دوسروں کے حقوق میں رخنہ نہ پڑے اور عوامی سہولیات پر تمام کا مساوی حق ہے۔ سڑک پر یہاں سے روزانہ گزرنے والوں کو بھی برابر کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ عدالت عظمی کی ہدایت کے حساب سے اہم سب مل کر حل نکالنا چاہتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ہم ایسا حل نکالیں گے کہ پوری دنیا میں مثال بن جائے۔

اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں جامعہ کوآرڈی نیشن کمیٹی نے پولیس بربریت کا ایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا۔

خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے بتایا کہ یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ، بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔

اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا اب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش سمیت ملک کے کونے کونے میں خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close