تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

سی اے اے کے خلاف کالندی کنج میں آٹھویں روز بھی احتجاجی دھرنا جاری

ذین العابدین نامی شخص کی چھٹے روز بھی بھوک ہڑتال جاری ٭سردی کی پرواہ کئے بغیر دودھ پیتے اور چھوٹے بچوں کو لئے خواتین مسلسل دھرنے پر ٭ مرد، خواتین اور نوجوانوں نے آج رکھا روزہ ٭سی اے اے اور این آر سی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہ اور دھرنے جاری ہیں۔ وہیں اوکھلا کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء و طالبات پر پولیس کی بربریت کے خلاف دہلی کے اوکھلا میں سریتا وہار کالندی کنج روڈ پر مسلسل جاری احتجاج کا آج 8واں روز ہے۔ یہیں ذین العابدین نامی شخص سی اے اے اور این آر سی اور طلبا پر پولیس کے تشدد کی مخالفت میں آج چھٹے روز بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے ساتھ مردوں کے ساتھ اپنے بچوں سمیت پردہ نشین خواتین، جن میں چھوٹے بچوں کی مائیں بھی شامل ہیں اور بزرگ رات اور دن سردی کی پرواہ کئے بغیر مسلسل سی اے اے کیخلاف دھرنے پر ڈتی ہوئی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک شہریت ترمیمی ایکٹ واپس نہیں لیا جاتا اور خاطر پولیس اہلکاروں اور افسران پر کاروائی نہیں ہوتی تب تک یہ یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔

سی اے اے کے خلاف آج اتوار کے روز وہاں موجود تمام مرد و خواتین نے روزہ رکھا اور بھوکے رہ کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ ان کا صاف طور پر کہنا تھاکہ یہ قانون مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا جو آئین کی روح کے خلاف ہے، جب تک یہ قانون واپس نہیں لیا جاتا ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے، اگر پولیس ہمیں یہاں سے ہٹانے کی کوشش بھی کرتی ہے تو ہم یہاں نہیں ہٹیں گے اور اس کالے قانون کے خلاف اپنی جانیں بھی دے دیں گے۔ دہلی کی ٹھٹرتی سردی میں چھوٹے چھوٹے اور دودھ پیتے بچوں کو لئے وہاں موجود خواتین کا واضح طور پر کہنا تھاکہ آج اگر ہم قربانیاں نہیں دیں گے تو کل مودی اور امت شاہ کا یہ کالا قانون ہمارے بچوں کی بلی چڑھا دے گا۔ بچوں کا کوئی مستقبل ہی نہیں ہے مودی اور امت شاہ اس طرح کے قانون لیکر آ رہے ہیں کہ کل ان کو ڈٹیکشن کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔

خواتین نے کہاکہ یہ ملک ہمارا ہے ہماری بزرگوں کا خون اس ملک کی مٹی میں شامل ہے، مودی اور امت شاہ کون ہوتے ہیں ہم سے ہمارے ہندوستانی ہونے ثبوت مانگنے والے؟۔ ہم ان سے پہلے ہندوستانی ہیں، ہمارے بزرگوں نے ملک کی آزادی کیلئے اپنے جان مال قربان کئے ہیں۔ مودی اور امت شاہ اپنے ثبوت پیش کریں کہ وہ کتنے محب وطن ہیں؟۔

خواتین اور وہاں موجود طالبات نے یہ بھی کہاکہ آج یہاں پردہ نشین خواتین اپنے پردے کی پرواہ کئے بغیر اپنے حق اور اپنے ملک کے آئین کے تحفظ کیلئے دھرنے پر ہیں، نہ ہمیں پولیس کی لاٹھی کا ڈر ہے اور نہ ہی جیل جانے کا ڈر ہے۔ صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی کر رہے اس قانون کو واپس لیا جائے۔ ہم اور ہمارے ساتھ موجود تمام خواتین ڈٹیشن کیمپ میں جانے سے بہتر مر جانا پسند کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اپنی عزت اور ملک کے آئین کے تحفظ کیلئے ہم تمام لوگ یہاں موجود ہیں۔

بھوک ہڑتال پر آج چھٹے دن بھی ڈٹے ہوئے ذین العابدین کا کہنا ہے یہ کالا قانون بنا ہے اور طلبا و طالبات پر ظلم ہوا ہے ہم اس کے خلاف ہیں۔ ایک جانب مودی جی بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ان کی پولیس پر امن احتجاج کر رہے طلبا و طا لبات پر تشدد کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک این آر سی اور سی اے اے کو منسوخ نہیں کیا گیا تب تک وہ بھوک ہڑتال پر رہیں گے چاہے ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔

بتا دیں کہ سریتا وہار روڈ پر جاری احتجاج کے چلتے مسلسل ٹریفک کو ڈائروٹ کیا گیا ہے۔ یہ روڈ ڈی این ڈی، نوئیڈا کو جوڑتا ہے۔ نو نمبر ٹھوکر سے ہوتے ہوئے یہ شاہین باغ اور بٹلہ ہاؤس جانے والا روڈ ہے جو اپولو یا سرائے جلینا سے آنے والوں کو یہ راستہ جوڑتا ہے جو دونوں طرف سے پوری طرح آج آٹھویں روز بھی بند ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close