تازہ ترین خبریںدلی نامہ

سی اے اے کے خلاف انسانی زنجیر کو پولیس نے توڑا، مظاہرین سے کی دھکا مکی

دہلی گیٹ پر یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن سمیت مظاہرین سے پولیس کی دھکہ مکی، مظاہرین کو زبردستی بس میں ٹھونسا، راج گھاٹ پر انسانی زنجیر بنانے پہنچنے لوگوں کو بھی پولیس نے کیا واپس

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
سی اے اے، این آر اور این پی آر کے خلاف راجدھانی دہلی سمیت ملک کے کونے کونے میں وسیع پیمانے پر دھرنے مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ آج بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم شہادت کے موقع پر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں انسانی زنجیر بنا رہے سوراج انڈیا کے قائد پروفیسر یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن سمیت مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور انسانی زنجیر نہیں بنانے دی۔ پولیس نے ڈاکٹر یوگیندر یادو اور مظاہرین کے ساتھ دھکہ مکی بھی کی اور انہیں زبردستی کھینچ کر بسوں میں ٹھونس لیا اور وہاں سے لے گئے۔

پروفیسر یو گیندر یادو نے کہاکہ اس کالے قانون کے خلاف ہماری جد و جہد جاری رہے گی۔ انہوں نے ٹویٹ کرکے کہا کہ دہلی گیٹ میٹرو اسٹیشن پر گاندھی کو یاد کرنے پر مجھے اور پرشانت بھوشن سمیت تمام ساتھیوں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ پرشانت بھوشن نے اس حراست کو جمہوریت کے خلاف کہا۔ انہوں نے بھی ٹویٹ کیا کہ دہلی پولیس کے مطابق ہم گاندھی جی کو یوم شہادت پر انہیں یاد نہیں کر سکتے اور نہ ہی قومی ترانہ گا سکتے ہیں۔ جبکہ دہلی گیٹ پر دفعہ 144 نہیں لگی ہے۔ تب بھی ہم پر کاروائی ہوتی ہے۔ جبکہ جامعہ اور جے این یو میں غنڈے لو ہے کی راڈ اور بندوق لہراتے ہیں، لیکن ان پر پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی۔ کیا یہی رول آف لاء ہے۔ یوگیندر یادو کے ساتھ انوپم، آشوتوش اور پریز سمیت سوراج انڈیا، سوراج کسان آندولن، یوا ہلّہ بول اور دیگر سماجی کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔

وہیں دوسری جانب بابائے قوم کے یوم شہادت پر طلبا تنظیموں نے آج سی اے اے اور این آر سی کے خلاف راج گھاٹ پر انسانی سلسلہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پولیس نے اس مظاہرے کی اجازت نہیں دی اور بڑی تعداد میں احتیاطی طور پر پولیس راج گھاٹ پر تعینات رہی۔ مظاہرہ کی اجازت نہ ہونے کے باوجود بہت سے لوگ راج گھاٹ پہنچ گئے، جنہیں پولیس نے وہاں سے واپس کر دیا اور انسانی زنجیر بنانے نہیں دی۔ انسانی زنجیر کے لئے شام ساڑھے تین بجے کا وقت دیا گیا تھا، لیکن اس سے پہلے راج گھاٹ پر پولیس کی ایک بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔ جامعہ میں ہونے والے تشدد کے بعد سے پولیس پہلے ہی راج گھاٹ پر احتجاج کیلئے چوکنا تھا اور طلبہ تنظیموں کو امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے راج گھاٹ پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ انسانی زنجیر گھاٹ سے دہلی گیٹ، گولچہ سنیما، لال قلعہ اور شانتی وان تک بنائی جانی تھی، جس کو پولیس نے بنانے نہیں دیا۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف راج گھاٹ اور دہلی گیٹ پر انسانی زنجیر مظاہرہ کے پیش نظر تین میٹرو اسٹیشن بند کئے گئے تھے۔ یہ میٹرو اسٹیشن تقریبا 2 گھنٹے تک بند رہے۔ مظاہرہ کے سبب جامع مسجد، دہلی گیٹ اور آئی ٹی او میٹرو اسٹیشن سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر دوپہر تقریبا تین بجے بند کئے گئے تھے اور انہیں دو گھنٹے بعد تقریباً 5بجے کھول دیا گیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close