تازہ ترین خبریںدلی نامہ

سی اے اے کی آگ میں جل اٹھی راجدھانی دہلی

پانچ گھنٹوں کے پر امن احتجاج کے بعد دریا گنج میں بھڑک اٹھا تشدد ٭جامع مسجد چوک پر بعد نماز جمعہ بھیم آرمی اور عوام کا وسیع احتجاج ٭سیما پوری میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ، گاڑیاں نذر آتش، پولیس نے کیا لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال، سیلم پور، جعفرآباد میں رہی کشیدگی، دفعہ 144 کے باوجود ہوئے احتجاجی مظاہرہ ٭تاریخی انڈیا گیٹ پر نکالا گیا کینڈل مارچ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
مرکزی حکومت کی جانب سے لائے گئے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں عوام کا غصہ پھوٹ پڑا ہے اور اس قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہو رہی ہیں۔ سی اے اے کے جھڑپ کے تازہ واقعہ میں پرانی دہلی کے دریا گنج میں اور شمال مشرقی دہلی کے سیما پوری میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا اور واٹر کیننن کا استعمال کیا، وہیں مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا۔

سیما پوری میں ہوئے پتھراؤ میں ایک ڈی سی پی بھی زخمی ہو گئے۔ یہ حیران کن ہے کہ جامع مسجد سے شروع ہوا پر امن احتجاج پانچ گھنٹے پر امن چلنے کے بعد اچانک اسوقت پر تشدد ہوگیا جب مظاہرین جنتر منتر تک جانے کیلئے دہلی گیٹ پہنچے جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوگئی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا جبکہ کافی افراد کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

بتا دیں کہ سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج کے چلتے آج بھیم آرمی چیف چندر شیکھر راون اور ایڈوکیٹ محمود پراچہ نے جامع مسجد سے جنتر منتر تک احتجاجی مارچ اور جنتر منتر پر بے میعادی دھرنے کی کال کی تھی۔ جس کے سبب آج صبح سے ہی پرانی دہلی سمیت شمال مشرقی دہلی اور دیگر حساس علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ لیکن نماز جمعہ کے بعد دہلی کے مختلف علاقوں سے آئے ہزاروں لوگوں نے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر اور جامع مسجد چوک پر جمع ہو کر احتجاج کیا اور سی اے اے کے خلاف نعرے بازی کی۔ بھیم آرمی کے چیف راون اور محمود پراچہ کی قیادت میں مظاہرین جنتر منتر کی جانب جانا چاہتے تھے لیکن لاء اینڈ آرڈر کو منٹین کرنے کیلئے خود وہاں موجود ڈی سی پی سینٹرل ڈسٹرکٹ مندیپ سنگھ رندھاوا نے راون کو حراست میں لے لیا، ایک مرتبہ راون پو لیس کے چھوٹ گئے لیکن رندھاوا نے ہوشیاری سے چندر شیکھر راون کو حراست میں لے لیا اور وہاں سے لے گئے، جس کے بعد یہ احتجاج دھرنے میں تبدیل ہوگیا اور محمود پراچہ کے ساتھ لاکھوں لوگ وہیں تاریخی جامع مسجد کے چوک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔

جیسے جیسے مختلف مساجد میں نماز تمام ہوتی گئی لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں ہاتھوں میں ترنگے اور سی اے اے کے خلاف نعرے لکھی تختیاں اٹھائے جامع مسجد پر جمع ہوتے گئے اور یہاں لاکھوں کا وسیع مجمع ہوگیا۔ یہ مظاہرہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ جس کے بعد تقریباً ساڑھے چار بجے چندر شیکھر روان واپس جامع مسجد چوک پر مظاہرین کے درمیان پہنچے اور عصر کی نماز کے بعد مظاہرین نے جنتر منتر کیلئے کوچ کیا، جنہیں پولیس نے دہلی گیٹ چوک پر ڈی سی پی آفس اور دریا گنج پولیس اسٹیشن کے سامنے ہی روکنے کی کوشش کی جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔جہاں پتھراؤ کے ساتھ مظاہرین نے ایک پرائیوٹ کار کو آگ لگا دی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن اور لاٹھی چارج کیا جبکہ کافی تعداد میں مظاہرین کو حراست میں لیا۔

دہلی پولیس کے چیف پی آر او اور ڈی سی پی وسطی ضلع مندیپ سنگھ رندھاوا نے میڈیا کو بتایاکہ کئی گھنٹے تک پر امن مظاہرہ جامع مسجد پر جاری تھا پولیس نے ان کے ساتھ تعاون کیا لیکن یہاں دریا گنج میں کئی گھنٹے کے احتجاج کے بعد شام میں مظاہرین نے پہلے بیریکیٹس توڑ ے اور اس کے بعد پتھراؤ شروع کر دیا، جس کے بعد پولیس نے واٹر کین کا استعمال کیا اور کم سے کم طاقت کا استعمال کرکے انہیں کھدیڑا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بہت سے لوگوں کو ڈٹین بھی کیا گیا ہے اور چیک کیا جا رہا ہے کہ باہر سے آئے لوگوں نے پتھراؤ کیا یا پہلے ہی اس کیلئے تیاری تھی۔

ادھر شمال مشرقی دہلی کے بیشتر علاقوں میں نافذ دفعہ 144 کے باوجود احتجاجی مظاہرہ کئے گئے۔ شمال مشرقی دہلی کے سیماپوری میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں ہوئے پتھراؤ میں ایک ڈی سی پی بھی زخمی ہوئے۔ جبکہ مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ وہیں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر نے کیلئے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ جبکہ بہت سے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

وہیں سیلم پور، جعفرآباد میں بھی دن بھر کشیدگی رہی۔ لوگ نماز جمعہ کے بعد سڑکوں پر اتر آئے اور مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ لیکن کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہ آئے اس کیلئے علاقائی معزز افراد نے عوام سے اپیل کرکے اور انہیں سمجھا بجھا کر گلیوں کے اندر کر دیا اور سڑکوں سے ہٹا دیا۔ جس کے بعد وہاں کسی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ کشیدگی ضرور رہی۔ ادھر اوکھلا علاقہ میں میں بھی سی اے اے کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ اس کے علاوہ دہلی بھر میں مختلف علاقوں میں جمعہ کی نماز کے بعد پر امن مظاہرہ کئے گئے۔ وہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل کئی روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

ادھر شام کو دہلی کے تاریخی انڈیا گیٹ پر بلاتفریق مذہب سیکڑوں افراد نے سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت سمیت طلباء پر کئے گئے احتجاج کے خلاف کینڈل مارچ نکالا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close