اترپردیشتازہ ترین خبریں

سی اے اے مظاہرہ: 53 لوگوں سے 23 لاکھ کی وصولی کرے گی یوگی حکومت، کاروائی شروع

شہریت (ترمیمی) قانون اور مجوزہ این آر سی و این پی آر کے خلاف گذشتہ 20 دسمبر کو مظفر نگر میں ہونےوالے احتجاج کے دوران عوامی پراپرٹی کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ضلع انتظامیہ نے 53 افراد سے 23 لاکھ روپئے کے نقصانات کی تلافی کی کاروائی شروع کردی ہے۔

ایک مہینے قبل مظفر نگر ضلع انتظامیہ نے 57 افراد کے خلاف مبینہ طور پر احتجاج میں ملوث ہونے کے پاداش میں نوٹس جاری کرتے ہوئےجواب طلب کیا تھا کہ آخر ان سے 20 دسمبر کو احتجاج کے دوران ہونے والے عوامی پراپرٹی کے نقصانات کی تلافی کیوں نہ کی جائے۔ انتظامیہ نے ان افراد کے نام نوٹس مقامی پولیس کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور حادثے کی ویڈیو کی مدد سے تیار کی گئی رپورٹ کی بنیا دپر جاری کیا تھا۔ ریاست کی بی جے پی حکومت کی جانب سے پبلک پراپرٹی کے نقصانا کی تلافی مظاہرین سے کرنے کے اعلان کے دو مہینے بعد اب ایسا کرنے والا مظفر نگر پہلا ضلع ہوگا۔ وہیں مظاہرین کے نام ریکوری نوٹس جاری کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے اس کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ کے 02 دسمبر 2010 میں محمد شجاع الدین بنام ریاست اترپردیش کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔

ایک مہینے قبل ضلع انتظامیہ نے جن 57 افراد کے خلاف نوٹس جاری کیا تھا ان میں سے 53 افراد نے یہ کہتے ہوئے اپنا جواب داخل کیا ہے کہ وہ اس قسم کے تشدد میں ملوث نہیں تھے جبکہ تین افراد نے اپنا جواب نہیں دیا ہے۔ ایس ڈی ایم(مظفر نگر) امت سنگھ نے بتایا کہ جن افراد نے جواب داخل کیا تھا ان کو ان کے تشدد میں ملوث ہونے کے شواہد دکھائے گئے۔ مظفر نگر کے ایس ڈی ایم کے مطابق ’’جن افراد کے نام سے نوٹس جاری کیا گیا تھا ان کے موقف کو سننے کے بعد اب تحصیل دار کو ایک نوٹس جاری کرکے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 53 افراد سے 23.41 لاکھ روپئے کی ریکوری کریں۔ یہ پوری رقم ان تمام افراد کو مل کر دینی ہوگی۔ 57 میں چار افراد کو عدم ثبوت کی بنیاد پرکلن چٹ دے دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک نابالغ تھا۔

ضلع انتظامیہ کے مطابق زیادہ تر نقصانات منڈی کراسنگ کے سول لائن میں ہوئے ہیں۔سول لائن میں اس ضمن میں 30 معاملے درج کئے گئے ہیں۔سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں سمیت تقریبا 21گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔کچھ گاڑیوں کو آگ کے حوالے بھی کردیا گیا تھا۔ پولیس اور اڈیشنل ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر نے کل 2341290 روپئے کے نقصانات کاتخمینہ لگایا تھا۔ مظفر نگر کے سول لائن اور کوتوالی علاقے میں 20 دسمبر کو ہونےوالے احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک شخص کی موت ہوگئی تھی جبکہ متعدد دیگر بشمول پولیس زخمی ہوگئے تھے۔اس ضمن میں کل 45 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں اور پولیس نے ابھی تک 92 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مظفر نگر انتظامیہ کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا جارہاہے جب کہ ریکوری نوٹس جاری کئے جانے کے سلسلے میں ایک عرضی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ گذشتہ 31 جنوری کو سپریم کورٹ میں جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا تھا کہ آخر عدالت ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ان ریکوری نوٹسوں کو کیوں نہ رد کر دے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

عرضی گذار نیلوفر نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی نوٹس پر سوال اٹھا تے ہوئے کہا ہے کہ’’ نوٹس الہ آباد ہائی کورٹ کے 2010 میں دئیے گئے فیصلے پر مبنی ہے جو کہ سال 2009 میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلے کے’’رہنما اصولوں‘‘ کے خلاف۔ ان ہدایتوں کی سال 2018 میں دوبارہ تصدیق کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ’’اس میں تضاد یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے سال 2009 کے اپنے فیصلے میں نقصانات کا تخمینہ اور قصورواروں سے تلافی کی ذمہ داری ریاستوں کے ہائی کورٹ کو سونپی تھی۔ جبکہ الہ آباد ہائی کورٹ نے سال 2010 میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھاکہ ریاستی حکومت کو تلافی کی کاروائی کی ذمہ داری لینے دیں۔ جوکہ کافی مضر ثابت ہو رہا ہے۔

عرضی گذار نے عدالت کے سامنے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے اس ہدایت کے تحت حکمراں جماعت اپنی دشمنی نکالنے کے لئے اپنے حریفوں یا پارٹی کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف اس کا استعمال کرسکتی ہے۔ انہوں نے عدالت سے ایسے معاملوں میں سال 2009 اور 2018 کے فیصلوں کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close