بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

’سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے اختتام کے بغیر دھرنا ختم نہیں ہوگا‘

بہار کے دار الحکومت پٹنہ کے سبزی باغ میں ہورہے مظاہرین کا کہنا ہے کہ سیاہ قانون کے اختتام کے بغیر دھرنا ختم نہیں ہوگا۔

پوری دنیا میں مہلک وبائی مرض کرونا نے جہاں بتاہی مچا رکھی ہے وہیں اس وبا کا اثر ہمارے ملک ہندوستان میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے پوری دنیا میں جہاں لاک ڈاﺅن جیسی کیفیت ہے وہیں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ لوگ خود سے اپنے اوپر کرفیو کا نفاذ کر لیں۔ اس کے باوجود عوام سی اے اے ین آر سی اور این پی آر کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور مظاہرین کا ماننا ہے کہ جب تک مطالبات پورے طور پر تسلیم نہیں کر لئے جاتے ہیں اس وقت تک ہم اپنی جگہوں سے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اسی ضمن میں بہار کے دار الحکومت پٹنہ کے سبزی باغ میں بھی دھرنا و مظاہرہ مسلسل جاری ہے آج دھرنے کو69 دن ہوگئے ہیں اور لوگ سی اے اے، این آر سی، این پی آر کی مخالفت کر رہے ہیں۔

دھرنے پرموجود سلطان گنج سے آئے محمد ارشاد کا کہناہے کہ امت شاہ نے جو یہ کہا کہ این پی آر میں کوئی کاغذ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ شروع سے ہی کہا جا رہا تھا کہ این پی آر میں کوئی کاغذ نہیں مانگا جائے گا۔ صرف معلومات حاصل کی جائیں گی، وہ بھی لازمی نہیں ہوں گی۔ کوئی چاہے تو بتائے اور چاہے تو نہ بتائے۔ اس لیے ان کی اس بات کا کوئی مطلب نہیں ہے کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں انھوں نے یہ جو بات کہی کہ این پی آر میں کسی کے نام کے آگے” ڈی“ نہیں لکھا جائے گا یعنی کسی کو مشکوک ووٹر نہیں مانا جائے گا، یہ ضرور نئی بات ہے۔ حالانکہ اتنا کہنا بھی کافی نہیں ہے۔ لوگوں کے اندیشے ختم نہیں ہوئے ہیں۔ حکومت نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ این پی آر این آر سی کا پہلا قدم ہے۔ اس لیے امت شاہ نے جو بیان دیا وہ کافی نہیں ہے۔ ان کو اعلان کرنا چاہیے تھا کہ این پی آر اور این آر سی دونوں نہیں ہوں گے۔ ساتھ ہی حکومت کو بتانا چاہئے کہ این پی آر کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جتنے بھی تعلیم یافتہ اور سنجیدہ لوگ ہیں وہ سب کہہ رہے ہیں ملک گیر این آر سی کی کوئی ضرورت ہے ہی نہیں۔

وہیں دھرنا میں شامل محمد علی کا کہنا ہیکہ این پی آر ہی این آر سی کا پہلاقدم ہے اور حکومت کے دستاویزات سے بھی یہ پتہ چلتاہے کہ این پی آر سے ہی این آر سی کی تیاری ہوگی اس لئے ہم تمام لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ این آر سی اور این پی آر اور سی اے اے سب کی مخالفت کرتے رہیں۔ اور مظاہرین نے بھی بتایا دیاکہ ان سیاہ قوانین کے ختم ہونے تک وہ چین سے نہیں بیٹھیںگے۔اگر حکومت دھرنا ختم کرانا چاہتی ہے تو تحریری طور پر لوگوں سے یہ وعدہ کرے کہ این آر سی ، این پی آر اور سی اے اے نہیں ہوگا تب ہی ہم لوگ اس سے پیچھے ہٹیں گے ورنہ نہیں۔

دھرنا میں روزانہ لوگ دعاﺅں کا اہتمام کرتے ہیں۔ نہایت متحرک اور فعال افروز فانی کی روزانہ بڑی ہی رقت آمیز دعائیں ہوتیں ہیں جہاں کثیر تعداد میں افراد جمع ہوکر دعائیں کرتے ہیں کرونا سمیت تمام آفات وبلیات سے ملک کی حفاظت کیلئے دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ساتھ ہی ملک کی اتحاد و سالمیت اور اس کالے قانون کے ختم ہونے کیلئے بھی دعائیں کی جاتی ہیں۔

دھرنا کو 69 دن ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک دھرنا پرامن جاری ہے راہگیروں کو بھی کسی طرح کی کوئی پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑ رہا ہے۔ دھرنا کو کامیاب بنانے میں سبزی باغ سمیت قرب وجوار کے افراد بالخصوص نوجوان پیش پیش ہیں۔ ان کی کوششوں سے دھرنا کامیابی سے جاری ہے اور اپنے 69 ویں دن میں داخل ہوگیا ہے۔ دھرنا میں آئے دن کوئی نہ کوئی بڑی شخصیت شامل ہوتی ہے اور لوگوں کو این آر سی اور این پی آر، سی اے اے کی خطرناکیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ دھرنا میں پیش پیش ہیں ان میں سابق میئر افضل امام، خطیب، وارڈ کونسلر اسفر احمد، محمد افضل، گولڈن، سابق وارڈ پارشد شہزادی بیگم انورالہدی یوسف، گلزار احسن، ساجد، عظیم، پٹنہ یونیورسیٹی کے طلباء سمیت دیگر افراد قابل ذکر ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close