بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

’سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کورونا سے زیادہ خطرناک‘

وبائی مرض کورونا وائرس کے باوجود سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف عوامی احتجاج کی شدت میں کمی نہیں آئی ہے۔

دارالحکومت پٹنہ کے سبزی باغ میں سی اے اے این آر سی، این پی آر کے خلاف 67 ویں دن بھی مظاہرین اپنے مطالبات کی حمایت میں ڈتے ہوئے ہیں۔ دھرنا میں موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ ہماری لڑائی آخری دم تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک یہ این پی آر، این آرسی اور سی اے ہے اس لئے جب تک حکومت ان تمام ظالمانہ قوانین کو ختم نہیں کرتی ہے ہم اس وقت تک اپنے مطالبات کی حمایت میں دھرنا پر بیٹھے رہیں گے اور کہیں نہیں جائیں گے۔

دھرنا میں روزانہ لوگ دعاﺅں کا اہتمام کرتے ہیں جس میں ملک کی اتحاد وسالمیت اور اس کی یکجہتی کیلئے دعائیں ہوتی ہیں ساتھ ہی اس قانون کے ختم ہونے کیلئے بھی دعائیں کی جاتی ہیں اور دعاﺅں میں کثیر تعداد میں لوگ موجود رہتے ہیں اور یہ کام مسلسل ہو رہا ہے۔ دھرنا میں خواتین کی کثرت ہے اور رات دن خواتین اس میں شامل رہتی ہیں اور عوام کے خطابات کو سنتی ہیں اور اب تو خواتین بھی سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے نقصانات سے متعلق لوگوں کو بتا رہی ہیں۔ یہاں تک کے بچے بھی این آر سی، سی اے اے، این پی آر پر ہلہ بول جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔ دھرنا کو 67 دن ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک دھرنا پرامن جاری ہے راہگیروں کو بھی کسی طرح کی کوئی پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑ رہا ہے۔

دھرنا کو کامیاب بنانے میں سبزی باغ سمیت قرب وجوار کے افراد بالخصوص نوجوان پیش پیش ہیں۔ ان کی کوششوں سے دھرنا کامیابی سے جاری ہے اور اپنے 67 ویں دن میں داخل ہوگیا ہے۔ دھرنا میں آئے دن کوئی نہ کوئی بڑی شخصیت شامل ہوتی ہے اور لوگوں کو این آر سی اور این پی آر، سی اے اے کی خطرناکیوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ جو لوگ دھرنا میں پیش پیش ہیں ان میں سابق میئر افضل امام، وارڈ کونسلر اسفر احمد، محمد افضل، گولڈن، سابق وارڈ پارشد شہزادی بیگم انورالہدی سمیت دیگر افراد قابل ذکر ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close