آپ کی آواز

سیکولرزم کی قدیم تاریخ بالکل درست

تاثرات..............آشوتوش

اس میں دو رائے نہیں ہے کہ راہل گاندھی کے نرم ہندتو سے ’لیفٹ – لبرل مفکروں اور صحافیوں میں کافی ہلچل ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو نہرو کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور ان کے سیکولرزم کو ملک کےلئے نہایت ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ سیکولرزم کی قدیم تاریخ بالکل درست ہے جس کا تصور یہ ہے کہ مذہب کو سیاست میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ ’دی پرنٹ‘ کے ایڈیٹر اور معروف صحافی شیکھر گپتا لکھتے ہیں کہ لیفٹ لبرل راہل کے قدم سے سکتے میں آگئے ہیں اور اسے کانگریس کے نام کے ساتھ اس نظریہ کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ لوگ یہ مانتے ہیں کہ ہندو ستان کی گنگا جمنی تہذیب کو مکمل طور سے وداعی دی جارہی ہے، ایسی صورت حال میں سوال یہ ہے کہ کیا راہل گاندھی کوئی اتنی سنگین غلطی کر رہے ہیں کہ کانگریس ہی ملک سے ختم ہوجائے یا پھر ملک میں اب کبھی بھی سیکولرزم کی چرچا نہ ہو اور کوئی بھی پارٹی سیکولرزم کے راستے پر سیاست نہ کرے۔

میرا اپنا خیال ہے کہ راہل کوئی غلطی نہیں کر رہے ہیں جب آپ کے سامنے سنگین مسئلہ پیدا ہوجائے تو وقت کے حساب سے پالیسی تبدیل کرلینی چاہئے، حقیقت یہ ہے کہ آج ملک پر اس کی ہزاروں سال قدیم تہذیب پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں، ہندوتو کے جس نظریہ کو آر ایس ایس سامنے رکھ کر پیش رفت کررہا ہے وہ ملک کے بنیادی نظریہ کو تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

سنگھ پریوار کا خیال ہے کہ ہندوستان اس لئے 1200سال سے اسلام اور عیسائیوں کا غلام رہا کہ ہندو نرم دل رہے ہیں اور ان کے برتاؤ میں رواداری ہے اور وہ ظلم نہیں کرتے وہ رحم دلی، اخوت اور عدم تشدد کی راہ پر چلتے ہیں اور سنگھ پریوار اسے ہندومذہب کی سب سے بڑی کمزوری تسلیم کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں قدیم روایات کو واپس لانا ہے تو اسے بنیادی کمزوریوں سے نجات حاصل کرنی ہوگی، اس نظریہ پر وہ 1925سے چل رہے ہیں۔ ابتدائی ایام میں گاندھی اور نہرو کی وجہ سے اسے وہ مقام حاصل نہیں ہوا لیکن جیسے جیسے کانگریس کمزور ہوتی گئی ہندوتو حاوی ہوتا چلا گیا، سنگھ پریوار ایک طبقہ کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا ہے کہ مغربی تہذیب کے اثرات سے ملک اپنی سنسکرتی سے کٹ گیا ہے اور اسے خود کو ہندو کہلانے میں شرم آتی ہے۔ وہ اسلام اور مسیحی خطرے کو نہیں سمجھ رہا ہے۔ چنانچہ اس راستے پر چل کر ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ ایسی صورت میں حب الوطنی کو ہندو تو سے وابستہ کرکے وہ اسے کافی خطرناک بنا دیتا ہے جو کہ عوام کے لئے ایک زبردست نشے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

اس سے قبل وی این گاڈگل نے لکھا تھا کہ کانگریس ملک کے 80فیصد ہندوئوں کو نظر انداز کرکے طویل مدتی سیاست نہیں کرسکتی ہے، یہ اس ملک کی سچائی ہے کہ اس ملک میں 80فیصد ہندو ہیں اور کانگریس نے نہایت چالاکی کے ساتھ اسے ثابت کردیا ہے کہ کانگریس جیسی پارٹیوں کو ہندوئوں کی پرواہ نہیں ہے وہ صرف مسلمانوں کے بارے میں سوچتی رہتی ہیں اسی غلط تشہیر کی آڑ میں ہندوئوں کے ووٹ بی جے پی کی جھولی میں چلے جاتے تھے۔

آج بی جے پی کی سب سے بڑی دقت یہ ہوگئی ہے کہ راہل کے ’نرم ہندوتو‘ کا اس کے پاس کوئی مناسب جواب نہیں ہے۔ راہل کی ہندونوازی نے بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کارگر ہتھیار کو چھین لیا ہے، اسی لیے وہ جھنجھلا رہے ہیں۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈر کبھی انھیں نقلی ہندو قرار دیتے ہیں اور کبھی ان کی والدہ کے تعلق سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اصلی ہندو نہیں ہیں، ان کی والدہ عیسائی اور دادی پارسی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ راہل گاندھی اگر مندر جاتے ہیں یا ٹیکا لگاتے ہیں یا گھنٹہ بجاتے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے۔ وہ اگر عوام کی نظر میں خود کو ہندو ثابت کررہے ہیں تو سنگھ پریوار کو تکلیف کیوں ہورہی ہے اور اگر انھیں یہ بات غلط محسوس ہو رہی ہے تو بہت پہلے ہی انھیں اس کی مذمت کرنی چاہئے تھی۔

اس کے علاوہ لیفٹ لبرل کو نہرو وادی سیکولرزم سے باہر نکلنا چاہئے کیونکہ ہر نظریہ کی ایک مدت ہوتی ہے۔ آزادی کے کچھ وقت تک اسے سیکولرزم کی ضرورت تھی، لیکن نہرو مغرب کی طرز پر سیاست میں مذہب کی دخل اندازی کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ اسی نظریہ کے تحت نہرو نے اس وقت کے صدر جمہوریہ راجندر پرساد کو سوم ناتھ مندر کی افتتاحی تقریب میں جانے سے منع کیا تھا۔ نہرو کا کہنا تھا کہ آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے کسی بھی لیڈر کو مذہبی پروگراموں سے دور رہنا چاہئے۔ راہل اس وقت جو سیاسی اقدام اٹھارہے ہیں وہ موجودہ سیاسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔

(Writer: Ashutosh………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close