اترپردیش

سینگر کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ کا سی بی آئی کو نوٹس

دہلی ہائی کورٹ نے اناؤ ریپ کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے خارج شدہ رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کی سزا عمر قید کو چیلنج کرنے والی عرضی پر جمعہ کو مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) سے جواب طلب کیا ہے۔

جسٹس منموہن اور جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل کی بینچ نے سینگر کی اس عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے یہ نوٹس جاری کیا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت اب چار مئی کو ہوگی۔ بینچ نے سینگر پر اس کیس میں 25 لاکھ روپیے کے جرمانے کی رقم 30 دن کے اندر جمع کروانےکی مدت کو 60 دن کے لیے مزید بڑھا دیا ہے۔ بینچ نے واضح کیا کہ 25 لاکھ روپیے میں 10 لاکھ روپیے ریپ متاثرہ کو بلاشرط دیے جائیں۔

اترپردیش کے بانگرمئو سے رکن اسمبلی اناؤ کی این نابالغ لڑکی کو جنسی زیادتی کا شکار بنانے کے معاملے مجرم قرار دیتے ہوئے نچلی عدالت نے 16 دسمبر 2019 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سینگر نے اس فیصلے کے خلاف بدھ کے روز ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے والی عرضی دائر کی تھی۔

سینگر نے آج خود کو غریب بتاتے ہوئے جرمانے کی رقم ادا کرنے میں نااہل قرار دیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر میں ایک شخص کمانے والا ہے اور اسے دو لڑکیوں کی شادی کرنی ہے۔ حالانکہ بینچ نے کہا کہ اس معاملے میں جو ریکارڈ ہیں؛ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی کے نام کئی جائدادیں ہیں۔ بینچ نے کہا،’ آپ کے پاس فارچونر گاڑی ہے…آپ کی بیوی کے زیورات ہیں…آپ قابلِ غوروخوض ملزم نہیں بلکہ مجرم ہیں‘۔

سینگر نے اسے سنائی گئی سزا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نچلی عدالت کا فیصلہ گواہوں پر مبنی ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نچلی عدالت نے ریکارڈ کو غلط ڈھنگ سے بیان کیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close