تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

سینکڑوں پاکستانی لڑکیوں کو دلہن بناکر چین کو فرخت کرنے کا سنسنی خیز انکشاف

پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات خوش گوار ہے، یہ دنیا جانتی ہے، وہیں دوسری جانب پاکستان اور چین کے شہریوں کے درمیان رشتے بھی قائم ہو رہے ہیں۔ یہ بھی معاملہ کئی مہیوں سے سرخیوں میں ہے۔ لیکن یہ رشتے کس طرح ہو رہے ہیں اس کا بھی دھیرے دھیرے انکشاف ہونے لگا ہے۔ غریب نادار پاکستانی لڑکیوں کو لالچ دے کر چینی مردوں کے ساتھ شادی کے بندھن میں باندھا جا رہا ہے۔ اس نئے انکشاف کے بعد لوگ حیرت زدہ ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق سیکڑوں پاکستانی لڑکیوں کو دلہن بنا کر چینی مردوں کو فروخت کر دیا گیا۔ پاکستانی تفتیش کاروں کے مطابق ملک بھر کے مختلف شہروں اور قصبوں سے سوا چھ سو سے زائد مقامی لڑکیاں دلہنیں بنا کر چینی مردوں کو بیچ دی گئیں، جو انہیں اپنے ساتھ چین لے گئے۔ گوجرانوالہ کی مقدس اشرف جس کی سولہ برس کی عمر میں شادی اس کے والدین نے ایک چینی شہری سے کر دی تھی۔ چین جانے کے پانچ ماہ بعد مقدس واپس پاکستان آئی تو وہ حاملہ تھی، اپنے شوہر کی طرف سے تشدد سے دل برداشتہ اور وہ اپنے چینی خاوند سے طلاق لے لینے کی خواہش مند تھی۔

یاد رہے کہ یہ تفتیش پاکستانی خواتین کی چینی مردوں سے شادیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر اور اس خدشے کے تحت کی گئی کہ انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ان پیشہ ور گروہوں کی روک تھام کی جا سکے، جو پاکستان کے غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو خوشحالی کے وعدے کرکے اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان سے خواتین کی چین اسمگلنگ کے کئی واقعات سامنے آنے کے بعد یہ چھان بین گزشتہ برس 2018 میں شروع کی گئی تھی۔ اس تفتیش کے اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں، وہ ایسی متاثرہ خواتین کی تعداد کے حوالے سے اپنی نوعیت کے اولین ٹھوس حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اے پی نے لکھا ہے کہ پاکستانی خواتین کی اس ٹریفکنگ سے متعلق تفتیشی مہم اس سال جون کے بعد سے زیادہ تر روکی جا چکی ہے۔ اس تفتیش سے واقف حکام کے مطابق اس کا سبب حکومتی اہلکاروں کا مبینہ دباؤ ہے، جن کو خدشہ ہے کہ ایسے واقعات کی تفصیلات منظر عام پر آنے سے اسلام آباد کے بیجنگ کے ساتھ مالیاتی حوالے سے بہت فائدہ مند تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کے مبینہ جرائم کا ایک بڑا واقعہ اسی سال اکتوبر میں اس وقت شہ سرخیوں کی وجہ بنا تھا، جب فیصل آباد میں ایک عدالت نے 31 چینی شہریوں کو خواتین کی ٹریفکنگ سے متعلق الزامات سے بری کر دیا تھا۔

اس مقدمے میں تفتیشی نتائج سے واقف پولیس اہلکاروں اور چند عدالتی حکام کے مطابق کئی ایسی خواتین، جنہوں نے شروع میں تو پولیس کو انٹرویو دیئے تھے، بعد ازاں دھمکیاں دیئے جانے یا پیسے دے کر زبردستی خاموش کرا دیئے جانے کے بعد اس مقدمے میں چینی ملزمان کے خلاف بیانات دینے سے مکر گئی تھیں۔ ان خواتین میں سے صرف دو نے اس لیے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تفصیلی بیانات دیئے کہ بعد میں انہیں خطرناک صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اطلاعات کے مطابق اس نے اپنی اس رپورٹ کے سلسلے میں اسلام آباد میں داخلہ اور خارجہ امور کی ملکی وزارتوں سے خواتین کی ٹریفکنگ کی ایسی شکایات کے بارے میں ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو وزارتی نمائندوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ نے کہاکہ وہ ایسی کسی فہرست سے بے خبر ہے، جس میں شادیوں کے نام پر پاکستان سے چین اسمگل کی گئی خواتین کی کوئی بات کی گئی ہو۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close