محاسبہ

سیاست کی اپنی اِک الگ زباں ہے

محاسبہ...........................سید فیصل علی

کرناٹک میں سیاسی ناٹک کلائمکس پر ہے۔ کلائمکس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس کاپتہ پیر کو چلے گا۔ جے ڈی ایس اور کانگریس کی کماراسوامی سرکار اکثریت حاصل کر پائے گی یا نہیں، کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے نئی پیچیدگی پیداہوگئی ہے کہ باغی ممبران اسمبلی کو ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے مجبورنہیں کیاجاسکتا۔چنانچہ کورٹ، اسپیکراور گورنر کے ٹکراؤ میں کس کی جیت ہوگی؟ یہ بھی 22 جولائی کو پتہ چلے گا۔ لیکن کرناٹک میں جو بازیگری ہو رہی ہے، وہ ہندوستانی سیاست کا ایسا چہرہ ہے، جس سے ہر ذی شعور خوف زدہ ہے کہ ایک منتخب سرکار کو کس طرح ڈانواڈول کیا جا سکتا ہے، کیسے سرکار گرائی جاسکتی ہے یا بنائی جا سکتی ہے؟ سیاسی شطرنج پر باغی مہروں کے ذریعہ کیسے شہ مات کا کھیل کھیلا جا سکتا ہے؟ وہ آج کی بے اصول سیاست کا چہرہ ہے۔

7 جولائی سے کرناٹک کو سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ 16 ممبران اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا۔ کماراسوامی اپنی سرکار بچانے کے لئے ہر چال چل رہے ہیں تو بی جے پی بھی ہر حربہ استعمال کر رہی ہے، ایک ہی دن میں فلور ٹیسٹ کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن ستم تو یہ ہے کہ کرناٹک کے بحران کو حل کرنے کے لئے مرکز سے لیکر گورنر اور کورٹ تک سامنے آگیا ہے۔ جبکہ کسی بھی اسمبلی یا پارلیمنٹ کا سربراہ اسپیکر ہی ہوتا ہے، اسی کے فیصلے ہدایات اور موجودگی میں ایوان کی کارروائی کی تکمیل ہوتی ہے، اسپیکر کو کوئی کورٹ، گورنر یا مرکز پابند نہیں کر سکتا ہے کہ وہ ایوان کو کیسے چلائے یا ہدایات کے مطابق فلورٹیسٹ کے لئے ٹائم مقرر کرے، لیکن الٹا چلنا، لیک سے ہٹ کر چلنا، روایت کو نظرانداز کرنا، جمہوری فکر کے بجائے ایک مخصوص سوچ کے تحت ہر مخالف نظریہ کو سپوتاز کرنا آج کی منتقم مزاج سیاست کا چہرہ ہے، جس سے ہر اپوزیشن لیڈر، سیاستداں، دانشور، صحافی ڈرا سہما سا ہے کہ اگر اس نے زیادہ کل پرزے نکالے تو اس کی اوقات بتا دی جائے گی۔ نتیجہ یہ ہے کہ مفاد پرست سیاستدانوں میں بھگدڑ سی مچی ہوئی ہے۔ بنگال سے گوا تک پارٹی میں توڑپھوڑ کا کھیل جاری ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما مرکزی وزیر کیلاش وجے ورگیہ بنگال میں جلد ممتا کی سرکار گر جانے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو کرناٹک میں یدی یورپا بی جے پی کی سرکار بننے کا دعویٰ پارلیمانی انتخاب کے بعد سے ہی کرنے لگے تھے، آج کرناٹک میں یہ دعویٰ حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

اگرچہ کرناٹک میں اعتماد کی تجویز کو لے کر سیاسی جنگ کی میعاد مزید بڑھ گئی ہے۔ گورنر کے ذریعہ دو دو بار بھیجی گئی ہدایات کو اسپیکر نے کوئی اہمیت نہیں دی ہے، انہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی نظر انداز کر دیا ہے، جس میں وقت متعینہ کے اندر فلور پر ووٹنگ کرانے کی بات کہی گئی ہے۔ اسپیکر کا صاف کہنا ہے کہ کسی کو بھی یہ اختیار نہیں کہ ایوان کی کارروائی کے لئے پابند کرے، اسی اختیار کے تحت اسپیکر نے اب کرناٹک اسمبلی کی کارروائی پیر تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ اعتماد کی تجویز پر ووٹنگ 22 جوالائی کو ہو سکتی ہے۔ اب کماراسوامی اپنی سرکار بچا پائیں گے یانہیں؟ سوال یہ نہیں ہے، اصل سوال تو یہ ہے کہ اس معاملے میں عدالت کی مداخلت نے کماراسوامی سرکار کے آگے بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے، جس کی رو سے اپنی ہی پارٹی کے ایم ایل اے اپنی ہی سرکار کے حق میں ووٹنگ کے لئے مجبور نہیں کئے جا سکتے۔ کورٹ نے حکم دیا ہے کہ جے ڈی ایس اور کانگریس وہپ جاری نہیں کر سکتی۔ ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ کہیں نہ کہیں اینٹی ڈفیکشن لاء کی روح کے منافی ہے، جبکہ بی جے پی کو وہپ جاری کرنے کی پاور برقرار ہے، اگر یہی فیصلہ دینا تھا تو اپوزیشن اور رولنگ دونوں کو کہا جا سکتا تھا کہ کوئی بھی پارٹی وہپ جاری نہیں کرسکتی۔ حالانکہ سپریم کورٹ اس معاملے میں CONSTITUTIONAL BALANCE کی بات کر رہا ہے، مگر یہ توازن کہاں اور کیسے برقرار ہے؟

حیرت تو یہ ہوتی ہے کہ پہلی مرتبہ جج صاحبان نے اسپیکر کو پابند کرنے کی سعی کی ہے، لیکن جب اسپیکر نے اپنا پاور دکھایا اور واضح کیاکہ وہ خود مختار ہے، ایوان میں اس کی صوابدید پر ہی فیصلہ ہوگا، چنانچہ دوسرے آرڈر میں جج صاحبان نے اپنی غلطی کو سدھارا اور کہاکہ ووٹنگ کے لئے اسپیکر وقت لے سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ حکمراں جماعت فلور ٹیسٹ کے دوران اپنے ایم ایل اے کے لئے وہپ جاری نہیں کر سکتی، یعنی حکمراں جماعت اپنے ہی ایم ایل اے کو پابند نہیں کرسکتی۔ دوسری طرف اسی فلور پر بی جے پی وہپ جاری کرکے اپنے ایم ایل اے کو کنٹرول میں رکھ سکتی ہے۔ قانون کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے میں کہیں نہ کہیں چوک ہوئی ہے۔ وہپ جاری کرنا آئین کے Xth, Schedule کے تحت پارٹی کا حق ہے، اگر اس طرح کی روایت چل پڑی تو اینٹی ڈیفیکشن لاء بھی بے معنی ہو جائے گا، ہر کمزور حکومت پر ہر وقت تلوار لٹکی رہے گی۔ چنانچہ کانگریس نے بھی اسی پوائنٹ کے تحت اور گورنر کی مداخلت کو لے کر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

کرناٹک کا ڈرامہ کوئی نیا ڈرامہ نہیں ہے۔ پانچ ریاستوں میں بھی ایسے ہی سیاسی ڈرامے ہو چکے ہیں۔ 21 فروری 1998 میں یوپی کی کلیان سرکار برخاست کر دی گئی۔ جگدمبیکا پال تین دنوں کے لئے وزیراعلیٰ بنے اور 23 فروری کو ہائی کورٹ نے اس برخاستگی کو غیر آئینی قرار دیا۔ کلیان سنگھ کی سرکار بحال ہوگئی۔ بہار میں 2000 میں نتیش کمار کی سرکار 8 دنوں میں ہی گر گئی اور رابڑی دیوی وزیراعلیٰ بن گئیں۔ اسی طرح 5 دسمبر 2016 کو جے للتا کی موت کے بعد تمل ناڈو کو مہینوں تک سیاسی اتھل پتھل کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں ششی کلا کو شکست ہوئی تھی۔ اسی طرح 15 مئی 2018 کو کرناٹک میں گورنر نے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دی اور یدی یورپا وزیراعلیٰ بنے۔ حالانکہ پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں تھی، پھر بھی انہیں اکثریت ثابت کرنے کے لئے 15 دنوں کا وقت ملا لیکن وہ فلور ٹیسٹ کا سامنا کئے بغیر دودنوں بعد ہی مستعفی ہوگئے۔ 19 مئی 2018 کو کانگریس- جے ڈی ایس اتحاد کے تحت کماراسوامی نے ریاست کی کمان سنبھالی اور اب یہ کمان شدید بحران کے نرغے میں ہے۔

بہرحال اب ملک کی نگاہیں کرناٹک کی طرف ہیں، کماراسوامی نے ایک تصویر کے ذریعہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ممبران اسمبلی کی خریدو فروخت ہو رہی ہے، انہیں بنگلور سے ممبئی اور گوا میں رکھا جا رہا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ پہلے ایم ایل اے بکاؤ کہے جاتے تھے، ایسے حالات میں انہیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا، لیکن اب انہیں باغی کا نام دیا جا رہا ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ کرناٹک میں اپنوں کی بغاوت کے شکار کماراسوامی اپنی سرکار بچا پاتے ہیں یا نہیں۔ بی جے پی کی سیاست کا فلور ٹیسٹ پر کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے؟ یا کرناٹک کے ڈرامے کا کلائمکس آج کی سیاست کا چہرہ ثابت ہوتا ہے، جس کے کتھنی اور کرنی میں فرق ہوتا ہے۔ بقول شاعر:

سیاست کی اپنی اک الگ زباں ہے
لکھا ہو جو اقرار، انکار پڑھنا

 

(syedfaisalali2001@yahoo.com)

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close