اپنا دیشتازہ ترین خبریں

سپریم کورٹ کو عوامی تحریک کی آواز سن کر فیصلہ دینا چاہئے: مولانا بدرالدین اجمل

آج چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس عبد النظیر اور جسٹس سنجے کھنہ پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے آج متنازعہ شہریت ترمیمی قانون پر داخل پٹیشنوں پر سماعت کرتے ہوئے اس قانون پر یہ کہتے ہوئے روک لگانے سے انکار کر دیا کہ مرکزی حکومت کی رائے سنے بغیر ہم ایسا نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ پچھلی سماعت پر حکومت کو نوٹس جاری کرکے اپنا جوابی حلف نامہ داخل کرنے کو کہا تھا مگر حکومت نے حلف نامہ داخل نہیں کیا اسلئے کورٹ نے ایک بار پھر نوٹس جاری کرکے اسے اپنا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملہ کو پانچ رکنی آئینی بنچ کے ذریعہ سماعت کئے جانے پر فیصلہ پر غور کیا جائے گا۔

آج کی سماعت کے دوران ایک اہم بات یہ ہوئی کہ سپریم کورٹ نے آسام اور تریپورہ کے معاملہ کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کردیا ہے یعنی آسام اور تریپورہ کے لوگوں کی جانب سے فائل کردہ پٹیشنبوں پر سماعت الگ ہوگی اور ملک کے باقی حصہ کے لوگوں کی جانب سے فائل کردہ پٹیشنوں کی سماعت الگ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آسام کے حالات بالکل الگ ہیں کیونکہ وہاں این آرسی کا کام پہلے ہو چکا ہے اور شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ سے وہاں فوری طور پر اثر پڑنے والا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے این آر سی کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا.

دوسری بات یہ کہ اس متنازعہ قانون کے نفاذ سے آسام اکورڈ (جس کے تحت 1971 کے بعد آنے والوں کو غیر ملکی قرار دیا جائے) بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گا کیونکہ اس قانون کے تحت 2014 تک آنے والے غیر مسلموں کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے اسلئے وہاں کے معاملہ کو اہمیت دیتے ہوئے کورٹ نے مرکزی سرکار کو دو ہفتے میں حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے جبکہ ملک کے بقیہ حصوں سے داخل پٹیشنوں کے لئے سرکار کو چار ہفتے میں جواب داخل کرنے کو کہا ہے کیونکہ باقی جگہوں کا معاملہ وہاں کی طرح نہیں ہے۔

آج کی سماعت کے بعد آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک رنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل جو جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے صدر بھی ہیں نے کہا کہ معاملہ کی سنگینی کے پیشِ نظر ہم نے جمعیۃ علماء صوبہ آسام کی جانب سے ایک مقدمہ WP (c) No.1515/2019 فائل کیا تھا اور دوسرا مقدمہ اپنی پارٹی کی جانب سے WP (c) No. 000192/2020 فائل کیا تھا کیونکہ سرکار نے پارلیمنٹ میں اپنی تعداد کے بل بوتے پر زبردستی قانون بنا لیا اسلئے ہمارے لئے کورٹ اور سڑک کا راستہ باقی رہ گیا تھا۔ مگر حکومت کی ہٹ ھرمی ہے کہ وہ نہ سڑک پر نکلے ہوئے لوگوں کی آواز سننے کو تیار ہے اور نہ ہی کورٹ میں اپنا موقف رکھ رہی ہے بلکہ وہ ٹال متول والا رویہ اپنا رہی ہے اسلئے کورٹ کو چاہئے کہ وہ خود نوٹس لیکر اس پر فیصلہ سنائے اور اس سیاہ قانون کو مسترد کرے۔

انہوں نے کہا کہ بہر حال آج کورٹ نے حکومت کو ایک بار پھر سے نوٹس دیا ہے اسلئے ہم امید کرتے ہیں کہ اب اگلی سماعت پر حکومت کی ڈرامہ بازی کو عدالت تسلیم نہ کرتے ہوئے عوام کی فریاد کو سنکر کوئی اہم فیصلہ سنائے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close