اپنا دیشتازہ ترین خبریں

سپریم کورٹ کا حکم، شبنم کو سخت سیکورٹی مہیا کروائی جائے

سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے بلند شہر میں تیزاب حملہ کاشکار مطلقہ خاتون شبنم رانی کو سخت سیکورٹی مہیا کرانے کا پیر کو حکم دیا۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے شبنم رانی کے وکیل کی دلیلیں سننے کے بعد بلند شہر کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) کو شبنم رانی کو سخت سیکورٹی مہیا کرانے کی ہدایت دی۔

بنچ نے شبنم رانی کو مفت علاج فراہم کرنے کا بھی ریاستی حکومت کو حکم دیا۔ ساتھ ہی، معاوضے کے بارے میں بھی غور کرنے کو کہا ہے۔ کورٹ نے اتر پردیش کی حکومت سے کہا کہ شبنم رانی جب کبھی گھر سے باہر جائے توان کی سیکورٹی کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے۔ عدالت عظمی نے شبنم کو بھی مشورہ دیا کہ اگر وہ اتر پردیش سے باہر جاتی ہیں تو ریاستی پولیس کو اس کی اطلاع دے۔

جسٹس مشرا نے کہا کہ کئی مسلم خواتین نے نکاح حلالہ کو چیلنج کیا ہوا ہے، ایسی صورت میں کسی بھی درخواست گزار کو اگر جان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اپنے علاقے کی پولیس سے رابطہ کر سکتی ہیں۔

دہلی کے اوکھلا کی رہنے والی شبنم رانی کی شادی اترپردیش کے بلند شہر کے رہنے والے مزمل سے ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ کے بعد ہی اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی۔ متاثرہ خاتون کے مطابق طلاق کے کچھ عرصہ بعد ہی اس کے شوہر نے اس پر دیور کے ساتھ نکاح حلالہ کرنے کا دباؤ بھی بنایا تھا۔

شبنم پر بلند شہر میں 13 ستمبر کو تیزاب سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کوسنگین حالت میں ضلع اسپتال میں داخل کروایا گیا، جہاں اس کا علاج چل رہا ہے۔ الزام ہے کہ شبنم رانی پر اس کے دیور نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر تیزاب پھینکا ہے۔ اس معاملہ میں شبنم کے دیور اور دیگر کے خلاف پولیس نے معاملہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close