اپنا دیشتازہ ترین خبریں

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: زنا کو جرم کے زمرے سے کیا باہر

سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک تاریخی فیصلے میں زنا (اڈلٹری) سے متعلق شق کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولكر، جسٹس آر ایف نریمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 497 (زنا،اڈلٹری ) کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کر دیا ہے.

سپریم کورٹ نے جمعرات کو 157 سالہ شق کو غیر آئینی قراردے دیا۔ آئینی بنچ کے رکن جسٹس اندو ملہوترا نے کہا کہ "میں دفعہ 497 کو خارج کرتی ہوں” سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ قانون 157 سال پرانا ہے، ہم ٹائم مشین لگاکر پیچھے نہیں جا سکتے. ہو سکتا ہے کہ جب یہ قانون بنا ہو تو اسکی اہمیت رہی ہو لیکن اب وقت بدل چکا ہے، کسی کو صرف نیا ساتھی چننے کے لئے جیل نہیں بیجھ سکتے ہیں.

جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم كھانولكر نے اپنا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ زنا جرم نہیں ہو سکتا. کورٹ نے کہا کہ چین، جاپان، آسٹریلیا اور یورپ کے کئی شہروں میں زنا اب جرم نہیں ہے. کورٹ نے یہ بھی کہا کہ دفعہ 497 من مانی حق دیتی ہے فیصلہ پڑھتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ "شوہر بیوی کا مالک نہیں ہے، مالک کا وقار سب سے اوپر ہے، مالک کی عزت کے خلاف سلوک غلط ہے، بیوی 24 گھنٹے شوہر اور بچوں کی ضرورت کا خیال رکھتی ہے.” کورٹ نے کہا کہ جہاں عورت کی پوجا ہوتی ہے خدا وہاں رہتا ہے.

کورٹ نے یہ بھی کہا کہ "دفعہ 497 مردوں کو من مانی حق دینے والا ہے یہ پیراگراف 21 (عزت سے جینے کا حق )کے خلاف ہے. کورٹ نے کہا کہ "زنا کو جرم بنائے رکھنے سے ان پر بھی اثر جو شادی شدہ زندگی سے ناخوش ہیں، جنکا رشتہ ٹوٹی ہوئی حالت میں ہے. ہم ٹائم مشین میں بیٹھ کر پرانے دور میں نہیں جا سکتے” اور "زنا اپنے آپ میں جرم نہیں ہے. اگر اسکے چلتے خودکشی جیسی حالت بنے یا کوئی اور جرم ہو تو اسے ترمیم کی طرح ہی دیکھا جا سکتا ہے.”

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close