اپنا دیشتازہ ترین خبریں

سي اےاے معاملہ: قانون پرعارضی روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار، مرکز کو نوٹس جاری

سپریم کورٹ نے شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 (سي اےاے) کے خلاف گزشتہ سماعت کے بعد دائر باقی تمام درخواستوں پر مرکزی حکومت کو بدھ کو نوٹس جاری کیا، تاہم اس نے اس قانون پر یک طرفہ روک لگانے سے انکار کر دیا۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ایس عبدالنذیر اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے سي اےاے کے خلاف اور حمایت میں دائر درخواستوں کو وسیع بنچ کے سپرد کرنے کے بھی اشارے دئیے۔ گزشتہ سال 18 دسمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران جن درخواستوں پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کئے گئے تھے، اس کے بعد دائر دیگر درخواستوں پر بھی مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا گیا۔ سماعت کے دوران مختلف درخواست گزاروں نے سي اےاے پر روک لگانے کی عدالت سے درخواست کی، لیکن چیف جسٹس نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت کو جواب کا موقع دیئے بغیر یکطرفہ حکم نہیں دے سکتے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش اٹارني جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت سے کہا کہ گزشتہ سماعت کے بعد 80 سے زائد عرضیاں دائر کی گئی ہیں جس کے جواب کے لئے انہیں کم سے کم جواب کے لئے چھ ہفتے کا وقت دیا جانا چاہئے، لیکن کورٹ نے جواب کے لئے صرف چار ہفتوں کا وقت دیا۔ معاملہ کی سماعت اب چار ہفتے بعد ہوگی۔ کورٹ نے آسام-تری پورہ سے متعلق درخواستوں پر جواب دینے کے لئے مرکز کو دو ہفتہ کا وقت دیا ہے۔ سماعت کے دوران مسٹر وینو گوپال نے اپیل کی کہ عدالت کو حکم جاری کرنا چاہئے کہ اب کوئی نئی درخواست دائر نہیں ہونی چاہئے۔

بنچ نے سي اےاے پر دائر درخواستوں کو الگ الگ زمرے میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کے تحت آسام، شمال مشرق کے ایشوز پر الگ سے سماعت کی جائے گی، وہیں، اتر پردیش میں سي اےاے کا جوعمل شروع کیا گیا ہے، اسے لے کر بھی الگ سے سماعت کی جائے گی۔ عدالت نے تمام درخواستوں کی فہرست زون کے حساب سے رجسٹری کرنےکو کہا ہے۔

مرکزی حکومت کے جواب کے بعد پانچویں ہفتے میں تین ججوں کی بنچ سي اےاے پر دوبارہ سماعت کرے گی، تبھی طے ہوگا کہ اس معاملہ کو پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیجا جانا چاہیے یا نہیں۔ معاملہ کی سماعت ختم ہونے سے پہلے عدالت عظمی نے ملک بھر کی مختلف اعلی عدالتوں میں سي اےاے کے خلاف دائر درخواستوں پر کوئی حکم جاری کرنے پر روک لگائی ہے۔

اس دوران سي اےاے کی حمایت میں فریق بننے کے لئے بلوچستان ہندو پنچایت نے عرضی دی ہے۔ وکیل اردھیندو مولی کمار نے اس بارے میں دلیلیں دیں۔ عدالت نے اس عرضی پر بھی نوٹس جاری کیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close