اترپردیشتازہ ترین خبریں

سونبھدر قتل معاملہ: متاثرین سے یوگی کی ملاقات، ایس پی۔کانگریس کارکنان گرفتار

اترپردیش کے ضلع سونبھدر کے گھوراول علاقے میں زمینی تنازعہ میں قبائلوں کے قتل عام کے بعد گرم سیاسی پارے کے دوران آج ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جائے وقوع پر پہنچ کر متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس دوران وزیر اعلی کو سیاسی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا جس کے پاداش میں کئی سیاسی لیڈران کو پولیس نے اپنی حراست میں بھی لیا۔

ہیلی کاپٹر کے ذریعہ امبھا گاؤں پہنچ کر وزیراعلی نے متاثرین سے ملاقات کر کے ان کی ڈھارس بندھائی اور قصورواروں کے خلاف سخت کاروائی کی یقینی دہانی کراتے ہوئے افسران کو ضروری ہدایات دیں۔ متأثرین سے ملاقات کے دوران وزیر اعلی نے کہا کہ آپ لوک پریشان نہ ہوں اب آپ کے ساتھ کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ پوری طرح سے ہم اور ہماری حکومت آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کی سیکورٹی کے لئے گاؤں میں ہی ایک پولیس چوکی بنائی جائے گی۔

ملاقات کے دوران وزیراعلی نے متاثرین کے بچوں کو گود میں اٹھا کر انہیں پیا ر کرتے ہوئے ان سے کچھ باتیں کیں وہیں تو روتے بلکتے اہل خانہ جو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ روئے نہیں آپ کو پورا انصاف ملے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے مہلوکین کے اہل خانہ کو حکومت کی جانب سے 18۔18 لاکھ روپئے اور زخمیوں کے اہل خانہ کو ڈھائی۔ڈھائی لاکھ روپئے دیئے جانے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر مسٹر یوگی کے ساتھ بی جے پی کے ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ، چیف سکریٹری ڈاکٹر انوپ چندر پانڈے و ڈی جی پی او پی سنگھ بھی موجود رہے۔

وزیر اعلی نے اس جگہ کا بھی معائنہ کیا جہاں پر قبائلیوں پر بے تحاشہ گولیاں برسائی گئی تھیں۔ا س موقع پر انہوں نے اہم گواہ راجارام سے ملاقات کرکے حادثے کی تفصیل سے جانکاری لی اور ساتھ ہی موجود ڈی جی پی سے ان کو سیکورٹی دستیاب کرانے کو کہا۔ وزیراعلی نے زخمیوں کے اہل خانہ کو گاؤں کے اسکول کے قریب بنے ایک چھوٹے سے اسٹیج پر بلا کر 50۔50 ہزار روپئے کا چیک دیا۔

وہیں وزیر اعلی کے دورے کے دوران انہیں کسی بھی قسم کی سیاسی مخالفت کا سامنا نہ کرنے پڑے اس کے لئے انتظامیہ کافی مستعد نظر آیا۔ اتوار کی صبح ہی پولیس نے سماجوادی کے سابق ایم ایل اے انور کشواہا کو انکے گھرسے اپنی حراست میں لے لیا۔ وزیر اعلی کی مخالفت کے شبہ میں پولیس نے ایس پی کے ضلع دفتر سے تقریبا 50 کارکنوں کو گرفتار کیا اور دفتر کے باہر پولیس کو تعینات کردیا گیا۔ ایس پی کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران و کارکنان کو بھی پولیس نے حراست میں لے کر انہیں شہر سے باہر کے تھانوں میں رکھا گیا۔ اپنے 20۔25 حامیوں کے ساتھ سونبھدر جا رہے سابق کانگریس ایم ایل اے للتیش پتی کو پولیس نے مرزا پور کے کلواری چوراہے پر گرفتار کرلیا۔

ملحوظ رہے کہ سونبھدر کے گھوراول تھانہ علاقے کے مورتیا(امبھا) گاؤں میں 17 جولائی کو گاؤں کے پردھان اپنے حامیوں کے ساتھ 90 بیگھے زمین پر قبضے کے لئے پہنچے تھے لیکن وہاں موجود قبائلیوں کی مخالفت کے بعد پردھان کے حامیوں نے ان پر گولیا ں چلا دی تھی جس میں 10 افراد کی موت ہوگئی تھی جب کہ دیگر 28 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

وہیں دوسری جانب وزیر اعلی سونبھدر پہنچ کر متاثرین سے ملنے کی خبر ملتے ہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کیا ۔اپنے ٹوئٹ میں پرینکا نے لکھا’’اترپردیش کے وزیر اعلی کے سونبھدر جانے کامیں استقبال کرتی ہوں۔دیر سے سہی،متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا حکومت کا فرض ہے۔اپنا فرض پہچاننا اچھا ہے۔امبھا کو لمبے عرصے سے انصاف کا انتظار ہے۔ توقع ہے کہ امبھا کے متاثرین کو انصاف ملے گا اور ان کے پانچوں مطالبوں کو پورا کیا جائے گا‘‘۔

وہیں اپنے ایک دیگر ٹوئٹ میں پرینکا نے ریاستی حکومت پر طنز کستے ہوئے لکھا’’ امبھا گاؤں کے متاثرین کی آواز کا جب کانگریس کے ہزاروں کارکنوں، انصاف پسند لوگوں نے ساتھ دیا تب اترپردیش حکومت کو بھی احساس ہوا کہ کوئی سنگین حادثہ پیش آیا ہے‘‘۔ انہوں نے آگے لکھا کہ ’’آج جو بھی اعلانات کئے گئے ہیں ان پر جلد ہی عمل ہو۔قبائلیوں کو زمین پر مالکانہ حق ملے اور سب سے ضروری کہ گاؤں کے لوگوں کو پوری سیکورٹی فراہم کی جائے‘‘۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close