تازہ ترین خبریںدلی نامہ

سولر پاور منصوبے سے 146 میگاواٹ بجلی ہو رہی ہے پیدا

دہلی میں اب 2900 سے زیادہ لگائے جا چکے ہیں سولر پلانٹس: وزیر توانائی ستیندر جین

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی کے وزیر توانائی ستیندر جین نے آج کہاکہ دہلی حکومت کی وزیر اعلی سولر پاور منصوبہ کے تحت چھتوں پر سولر پینل لگانے کا کام بڑی تیزی سے شروع کیا گیا۔ اس منصوبہ کے تحت دوارکا میں جتنی بھی گروپ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں، ان میں سے 25 فیصد سوسائٹیوں میں سولر پلانٹ لگائے گئے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ دہلی کے تمام سوسائٹیوں میں سولر پلانٹ لگائے جائیں، تاکہ آلودگی کو بھی کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ گروپ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں کامن یوٹیلٹی، پارکنگ، لفٹ، کلب، جم ایریا کیلئے لوگ اہم ذریعہ سے بجلی کی فراہمی کیلئے 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں۔ لیکن جن سوسائٹیوں میں سولر پلانٹ لگائے گئے ہیں، وہاں اس کیلئے ایک روپے فی یونٹ کے حساب سے بل آ رہا ہے۔ اس طرح سولر پاور نہ صرف ماحول کے لئے اچھا ہے، بلکہ لوگوں کیلئے سستا بھی ہے۔ اس کے علاوہ جن سوسائٹیوں میں سولر پلانٹ لگے ہیں، ان کا اورآل بجلی کا بل بھی 50 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ دہلی حکومت کا وزیر اعلی سولر پاور منصوبہ کامیابی کے راہ پر گا زن ہے۔ اس منصوبہ کے تحت اب تک دہلی میں 2900 سے زیادہ سولر پلانٹس لگائے جا چکے ہیں۔ یہ پلانٹس گروپ ہاؤسنگ سوسائٹی، اسکولوں، منڈیوں اور انفرادی اداروں میں لگائے گئے ہیں، جن سے قریب 146 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

دہلی حکومت کے وزیر توانائی ستیندر جین کے مطابق معمول کی بجلی کے مقابلے میں سولر پاور کافی سستی پڑ رہی ہے۔ ساتھ ہی سولر پاور کی پیداوار کے چلتے روزانہ تقریبا 500 ٹن کاربن ڈائی آکسائید کا اخراج کم ہوا ہے۔ دہلی میں سولر پاور کو فروغ دینے کیلئے دہلی حکومت نے ستمبر 2018 میں وزیر اعلی سولر پاور منصوبہ لانچ کیا تھا۔

اس منصوبہ کے تحت سولر پلانٹ لگانے کا کام دیکھ رہی کمپنی ریوانتا کے پروجیکٹ مینیجر منیش یادو کے مطابق سولر پلانٹ لگانے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بجلی کا بل 50 فیصد کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں مونوکریسٹیلن موڈیول کے سولر پینل لگائے گئے ہیں جو بجلی کی بہتر بچت کرتے ہیں۔ ان سولر پلانٹوں کے لگانے کے خرچ پر دہلی حکومت کی جانب سے 30 فیصد سبسڈی مل رہی ہے، جس کا سیدھا فائدہ صارفین کو مل رہا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے لے کر اسکول، اسپتال، ہاؤسنگ سوساٹیز سب اس منصوبہ بندی کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close