اپنا دیشتازہ ترین خبریں

سنجیو بھٹ کو ملی مودی کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا

گجرات کے جام نگر کی ایک عدالت نے برخاست آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ (55) کو تقریبا تین دہائی پرانے حراست میں موت (كسٹوڈيل ڈیتھ) سے منسلک ایک معاملہ میں آج عمر قید کی سزا سنائی۔

استغاثہ کے مطابق مسٹر بھٹ نے جام نگر کے اس وقت کے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ کے طور پر شہر جام جودھ پور میں 1990 میں ہونے والے فسادات کے دوران 100 سے زائد افراد کو حراست میں لینے کے احکامات دئیے تھے۔ حراست سے آزاد کئے جانے کے بعد ان میں سے ایک پربھوداس ویشاني کی اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ ان کی حراست کے دوران پٹائی کی گئی تھی۔ متوفی کے بھائی امرت ویشاني نے اس معاملہ میں مسٹر بھٹ سمیت آٹھ پولیس اہلکاروں کو ملزمان بناتے ہوئے معاملہ درج کرایا تھا۔

عدالت نے مسٹر بھٹ کو مجرم ٹھہراتے ہوئے آج عمر قید کی سزا سنائی۔ ایک اور ملزم اور اس وقت کے کانسٹیبل پروین جھالا کو بھی عمر قید کی سزا دی گئی۔ واضح رہے کہ اس وقت کے وزیراعلی نریندر مودی پر گجرات کے 2002 کے فسادات کے دوران فسادیوں کے خلاف پولیس پر نرم رویہ اپنانے کا الزام لگانے والے مسٹر بھٹ کو طویل عرصہ تک ڈیوٹی سے غائب رہنے کی وجہ سے 2011 میں معطل اور اگست 2015 میں برخاست کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس معاملہ میں 12 جون کو سپریم کورٹ میں عرضی دیکر 10 اضافی گواہوں کے بیان لینے کی اپیل کی تھی لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے اسے ایسے وقت میں معاملے کو طول دینے کی کوشش قرار دیا تھا جب نچلی عدالت فیصلہ سنانے والی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close