تازہ ترین خبریںدلی نامہ

سنت روی داس مندر توڑے جانے کے خلاف زبردست احتجاج

دہلی کی سڑکوں پر پھوٹا بھیم آرمی کا غصہ، پتھراؤ اور آگ زنی، پولیس نے کیا لاٹھی چارج،مندر کی از سر نو تعمیر نہ کرنے پرحکومت کو بہوجن سماج کے مزید احتجاج کا انتباء، رام لیلا میدان میں بہوجن سماج کے ساتھ ’آپ‘ لیڈران اور ہزاروں کارکنان ہوئے شامل

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
دہلی کے تغلق آباد میں بہوجن سماج کے رہنما سنت روی داس کا مندر توڑے جانے کا معاملہ مرکزی حکومت کے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کے محکمہ ڈی ڈی اے کی جانب سے مندر پر انہدامی کاروائی کے خلاف بہوجن سماج کا غصہ سڑکوں پر پھوٹ پڑا ہے۔ پولیس اور بھیم آرمی، بہوجن سماج کے لوگوں کے درمیان جھڑپیں، پتھراؤ اور پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کئے جانے کی خبریں ہیں۔ جس سے دہلی کی عام زندگی درہم برہم ہو گئی ہے۔

ڈی ڈی اے کے ذریعہ مندر توڑے جانے اور بی جے پی کی مرکزی حکومت کی خاموشی پر ناراض بہوجن سماج کی جانب سے آج دہلی کے تاریخی را م لیلا میدان میں وسیع ریلی کر کے احتجاج کیا گیا۔ جس کو سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل رہی۔ دہلی کے سماجی بہبود کے وزیرراجندر پال گوتم کی قیادت میں عام آدمی پارٹی کے لیڈران اور ہزاروں کارکنان نے ریلی میں شرکت کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ روی داس مندر کے توڑے جانے پر سیاست نہیں ہو نی چاہئے، لیکن اس کے باوجود روی داس مندر معاملہ کسی صورت ٹھنڈا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔دہلی میں جگہ جگہ بہوجن سماج کے بھیم آرمی کے لوگوں کی بھیڑ سے دہلی ٹھپ سی ہو کر رہ گئی ہے۔

مندر توڑے جانے سے ناراض بہوجن سماج کی بھیم آ رمی کا غصہ دہلی کے رام لیلا میدان سمیت دہلی کی سڑکوں پر دکھائی دیا۔ دہلی کی سڑکوں پر بھیم آ رمی کا غصہ بھی پھوٹ پڑا۔ رام لیلا میدان سے نکلے روی داس سماج اور بھیم آرمی کے لوگ را ستے میں ہی بھپر گئے اور انہوں نے جم کرہنگامہ شرو ع کر دیا اور آ گ زنی، پتھراؤ کیا،جن کی پولیس کے ساتھ بھی جھڑپ بھی ہوئی۔ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈے لئے سڑکوں پر حکومت کے خلاف نعرے بازی اور ہنگامہ کر تی بھیڑ کی جانب سے ہمدرد چوک پر آگ زنی اور پتھراؤ کیا گیا، بھیڑ کو کنٹرول کر نے کیلئے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا۔حالانکہ کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے لیکن اس ٹریفک نظام زبردست متاثر ہو گیا اور جگہ جگہ جام کی صورت حال پیدا ہو گئی۔

وہیں مندر توڑے جانے کے خلاف سنت روی داس کے پیروکاروں اور بھیم آرمی کی دہلی کے جنتر منتر پر وسیع پیمانے پر احتجاج کئے جانے کی تیاری ہے۔دہلی کے کناٹ پلیس سے گزرکر جنتر منتر کی جانب جا رہے لوگ ہاتھوں میں لاٹھیاں اور ڈنڈے لئے ہوئے بیحد ناراض دکھائی دے رہے تھے جو کسی ناخوش گوار واقعہ کی علامت بھی ہے۔ وہیں رام لیلا میدان سے نکلے غصائے لوگوں نے آشرم پر جام لگا دیا، ہاتھوں میں لاٹھیاں ڈنڈے، لوہے کے سریے لئے مظاہرین نے جام لگا دیئے۔ رام لیلا میدان سے، متھرا روڈ، آشرم چوک، مودی مل، کا لکاجی، اوکھلا اسٹیٹ ہوتے ہوئے گرو روی داس مندر پہنچے۔ لیکن جس طرح بھیم آرمی چیف چندر شیکھر اور بہوجن سماج کے لوگوں کی ملک کے مختلف علاقوں سے راجدھانی میں آمد ہوئی اس کے باوجود بھی اس بھیڑ کو کنٹرول کرنے کیلئے مثبت انتظامات نہیں کئے گئے۔ جس کے چلتے بھیم ا ٓرمی اور بہوجن سماج کے لوگ دہلی کی سڑکوں پر جم کر ہنگامہ کرتے نظر آئے۔ دہلی بھر میں سنت روی داس مندر کو توڑے جانے سے ایک ہناگمے کی صورت بنی ہوئی ہے،

دراصل سپریم کورٹ کے حکم پر 10 اگست کو ڈی ڈی اے کی جانب سے تغلق آباد کے جاں پناہ جنگل کے علاقہ میں واقع سنت روی داس مندر کو توڑ دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ہی سنت روی داس کے پیرو کاروں کی جانب سے احتجاج درج کرا تے ہوئے مندر کی از سر نو تعمیر کا مطا لبہ کیا جا رہا تھا۔ لیکن کوئی کاروائی نہ ہونے پر دہلی کے رام لیلا میدان میں آج ایک وسیع ریلی منعقد کی گئی تھی، جس میں شامل ہزاروں افراد اور بھیم آرمی کے لوگوں نے مندر توڑے جانے کے خلاف اپنا غصہ نکالا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close