اترپردیشتازہ ترین خبریں

سماج وادی پارٹی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے امکانات

اترپردیش میں اسمبلی ضمنی انتخابات کے پیش نظر سماج وادی پارٹی نے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوطی فراہم کرنے کے لئے بڑی پیمانے پر تبدیلیوں کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہے۔

پارٹی نوجوانوں کو زیادہ نمائندگی دینے اور قدآور رہنماؤں پر زیادہ اعتماد کرنے پر غور خوض کررہی ہے۔ پارٹی میں او بی سی اور دلت لیڈروں کو بڑی ذمہ داریاں دینے کی حکمت عملی تیاری کررہی ہے۔ سماج وادی پارٹی اکھلیش یادو پہلے ہی اترپردیش اور دہلی میں پارٹی کی تمام اکائیوں کو تحلیل کرچکے ہیں۔ وہ ضمنی انتخابات سے قبل ایک فعال تنظیمی ڈھانے کو ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ یہی موقع ہے جب ضمنی انتخابات میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے آمنے سامنے ہوگی۔ ایس پی نے بی ایس پی کی حمایت سے 2018 میں ہوئے ضمنی انتخاب میں لوک سبھا کی تین اور اسمبلی کے ایک سیٹ پر کامیابی درج کی تھی۔

ایس پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ ’’اکھلیش یادو ضمنی انتخابات کو کافی سنجیدگی سے لے رہے ہیں کیونکہ ایس پی کے لئے یہی موقع ہے کہ وہ اپنی معتبریت کو دوبارہ حاصل کرے۔اگرچہ اس وقت پارٹی کی قبضہ والی صرف ایک سیٹ رامپو ہے جس پر ضمنی انتخاب ہونا ہے لیکن ہم بی جے پی کی سیٹوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ سابق ایس پی وزیر رویداس مہروترا نے اس بات کو قبول کیا کہ’’یہ پارٹی کے لئے جدوجہد کا وقت ہے۔ ہمیں ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو مخالف حالات کا جم کر پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کرسکیں۔ہم پر امید ہیں کہ نیا تنظیمی ڈھانچہ نوجوان اور عمر رسیدہ لیڈران کے درمیان توازن قائم کرے گا۔

مسٹر یادو کو یک بعد دیگر کئی فیصلوں کے غلط ثابت ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی کی کھوئی ہوئی زمین کو دوبارہ تلاشنے میں سخت دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔2017 کے ضمنی انتخابات میں کانگریس کے ساتھ اتحاد نے یو پی اسمبلی کی 403 سیٹوں والی یو پی اسمبلی میں ایس پی کے صرف 47 سیٹیں آئیں۔ جبکہ 2019 کے عام انتخابات میں بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے بعد پارٹی کی لوس سبھا میں صرف 5 سیٹوں پر سمٹ گئی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close