تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

سماجی تفریق کے خاتمے تک ریزرویشن کو نہیں ہٹایا جا سکتا: آر ایس ایس

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) نے ریزرویشن کے اہتمام کو حسب حال جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ سماج میں تفریق کے خاتمے تک ریزرویشن کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔

راجستھان کے ضلع اجمیر کے پشکر میں آج منعقد ہونے والے آر ایس ایس کی سہ روزہ رابطہ اجلاس کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آرایس ایس کے’ سرکاریہ واہ‘ دتاتریہ ہوسبولے نے مذکورہ خیال ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور دفعہ 35۔اے کو ہٹاکر اسے مرکز کے زیرانتظام ریاست بنانے کے مودی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا۔ اجلاس میں اسے تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر اور لداخ میں بہتر ترقی کے لیے بابِ اعظم کھولنے کا نام دیا گیا۔

مسٹر ہوسبولے نے کہا کہ کشمیر کو قومی دھارے میں لانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا خیرمقدم کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وادی میں آر ایس ایس کے کارکنان پہلے سے ہی کام کررہے ہیں اور اب مزید سرگرم رہیں گے۔ انہوں نے علاحدگی پسند رہنماؤں کو نظر بند کرنے کے سلسلے میں کہا کہ مرکزی حکومت نے معلومات اکٹھا کرنے کے بعد ہی انھیں نظر بند کیا جس کی کئی وجوہات ہیں۔حکومت کشمیر میں امن بحال کرنا چاہتی ہے۔ نظر بند اور ایمرجنسی کا تجزیہ کرتے ہوئے دتاتریہ نے واضح کیا کہ ایمرجنسی تو اقتدار بچانے کے لیے لگائی گئی تھی اور جے پرکاش نارائن جیسے مفکر کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں تمام تنظیموں کے ذریعے بیداری کے ساتھ وہاں کے سماج کو خوشحال، خود مختار بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن(این آر سی کا انہوں نے خیر مقدم کیا اور اس میں جو کمیاں رہ گئیں ہیں انھیں دور کرنے کی اپیل بھی کی۔ بابری مسجد اور رامندرتنازعہ کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ کے زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں گذشتہ برس آندھرا پردیش میں ہونے والے اجلاس کا جائزہ لیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ مختلف پروجیکٹس کے نمائندوں کے اپنے اپنے علاقوں میں حسب معمول کیا تجربات رہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ملک کے مسائل اور رکاوٹوں کے حل پر وسیع پیمانے پر ٖغوروخوض کیا گیا اور طے کیا گیا کہ غلامی کے دور سے رہ کر اپنے دم پر سماج کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت سرحدی علاقوں کو ہے۔

مسٹر ہوسبولے نے بتایا کہ اجلاس میں ملک کو تعلیم کے شعبے میں آگے بڑھانے کے لیے اسے نئی شکل دینے پر غوروخوض کیا گیا جس کے تحت نیشنل ایجوکیشن پالیسی پر ابھی تک دو لاکھ افراد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مستقبل میں ماہر تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ دور جدید کے مطابق نیا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خواتین میں بڑھنے والے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کرکے دوبارہ خواتین کے اعزاز کی بازیابی اور قائم رکھنے پر غووخوض کیے جانےکی اطلاع دی۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ملک کے شیڈول ٹرائب(قبائلی) کے علاقوں کی فلاح و بہبودکے سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ شیڈول ٹرائب علاقے کی آبادی ہندوستان میں ہے اور اس نقطہ نظر سے یہاں کی ترقی پربھی کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ شیڈول ٹرائب بھی عام معاشرے کا حصہ ہے جن کے ساتھ مساویانہ (برابری) کا برتاؤ ہونا چاہیے۔ اجلاس میں شیڈول ٹرائب علاقے پر مشترکہ کوشش کی وکالت کے ساتھ تعلیم، صحت، خود مختاری کا حق، پانی، سینچائی، زراعت کے کاموں کو فروغ دینے پر ٖغوروخوض کیا گیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close