تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

سعودی عرب کا تاریخی فیصلہ، دنیا بھر کے پیشہ ور ماہرین کو شہریت دینے کا اعلان

سعودی عرب اپنی تاریخی تبدیلیوں کی جانب گامزن ہے۔ متعدد اہم فیصلوں سے ان دنوں سعودی عرب کے شاہی حکمران سرخیوں میں ہیں۔ پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کے حق میں لئے گئے سعودی شاہی حکومت کے ایک تازہ فیصلہ بھی تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے جس میں سعودی عرب نے دنیا بھر سے پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے سعودی عرب نے دنیا بھر سے ’غیر معمولی‘ کارکردگی دکھانے والے افراد کو شہریت دینے کی پیشکش کی ہے۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے پیشوں میں مہارت رکھنے والے افراد کو شہریت عطا کرنے کی منظوری دی۔ جن شعبوں سے منسلک اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو شہریت دینے کا اعلان کیا گیا ان میں طب، فرانزیک، ثقافت اور کھیل شامل ہے۔ سعودی عرب کے اس اقدام کا مقصد ویژن 2030 کے تحت معیشت کو نئی جہت بخشنے کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک افراد کو سعودی عرب آنے پر راغب کرنا ہے۔اس سے قبل سعودی عرب نے ’اسپیشل پریولیجڈ اقامہ‘ کا قانون منظور کیا تھا جس سے ملک میں خصوصی اہلیت والے غیر ملکی افراد متعدد رہائشی سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

مئی میں متعارف کروائی جانے والی اس سکیم پر 3 سال قبل کام کا آغاز ہوا تھا جس کے تحت تارکین وطن مخصوص فیس ادا کرکے سعودی عرب میں رہائش، قیام اور اپنا کاروبار اور جائیداد خریدنے کا حق رکھ سکیں گے۔ قانون کے مطابق اس قسم کے اقامہ رکھنے والے افراد اپنے اہلِ خانہ کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں، رشتہ داروں کے لیے ویزا لے سکتے ہیں اور گھریلو ملازمین کے ساتھ ساتھ جائیداد بھی خرید سکتے ہیں۔ بعدازاں 23 جون کو سعودی گرین کارڈ کہلائی جانے والی اس اسکیم کو عوام کے لیے پیش کردیا گیا تھا۔

اس اسکیم کی آن لائن رجسٹریشن کے تحت 8 لاکھ ریال (2 لاکھ 13 ہزار ڈالر) ادا کرکے مستقل رہائش جبکہ ایک لاکھ ریال (27 ہزار ڈالر) ادا کرکے قابلِ تجدید رہائش حاصل کی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب مئی میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی سرمایہ کاروں، اپنا کاروبار کرنے والوں، خصوصی قابلیت یا ہنر کے حامل، محققین اور بہترین طالب علموں کے لیے ’گولڈن کارڈ‘ اسکیم کا آغاز کردیا گیا تھا۔ اس مستقل رہائش کے اجازت نامے کا کارڈ حاصل کرنے والے افراد کے شریک حیات اور بچے بھی ان سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ کار نے متحدہ عرب امارات میں ایک کھرب اماراتی درہم یعنی 27 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہو۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close