اپنا دیشتازہ ترین خبریں

سری نگر میں گرینیڈ حملہ، ویڈیو منظرعام پر

جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مصروف ترین تجارتی علاقہ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں پیر کے روز ہونے والے ایک گرینیڈ حملے میں ایک غیر ریاستی چھاپڑی فروش ہلاک جبکہ تین سیکورٹی فورس اہلکاروں سمیت قریب 27 دیگر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ 12 اکتوبر کو اسی جگہ پر ہوئے ایک گرینیڈ حملے میں ایک خاتون سمیت 8 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے پیر کو دوپہر کے وقت سری نگر کے قلب تاریخی لالچوک سے محض ڈیڑھ سو میٹر کی دوری پر واقع ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں گونی کھن گلی کے نزدیک گرینیڈ پھینکا جس کے نتیجے میں تین سیکورٹی فورس اہلکاروں سمیت قریب 27 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک غیر ریاستی چھاپڑی فروش کو مردہ قرار دیا گیا۔

مہلوک غیر ریاستی شخص کی شناخت سہارنپور اترپردیش کے رہنے والے رینکو کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ گونی کھن گلی کے داخلی پوائنٹ پر کھلونے بیچتا تھا۔ گرینیڈ دھماکے کے بعد ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں افراتفری پھیل گئی اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ گرینیڈ دھماکے کی وجہ سے سڑک پر کھڑی کچھ نجی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور ہوئے اور کچھ دکانوں کو نقصان پہنچا۔

ریاستی پولیس نے گرینیڈ دھماکے کے لئے جنگجوئوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا: ‘دہشت گردوں نے سری نگر کے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں گرینیڈ پھینکا۔ مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی’۔ سرکاری ذرائع نے بتایا: ‘مشتبہ جنگجوئوں نے مصروف ترین ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں گونی کھن گلی کو جانے والی سڑک پر گرینیڈ پھینکا جس کے نتیجے میں کم از کم دو درجن راہگیر زخمی ہوئے’۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘زخمیوں کو فوری طور پر صدر ہسپتال سری نگر منتقل کیا گیا جہاں ایک غیر ریاستی چھاپڑی فروش کو مردہ قرار دیا گیا، دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے’۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ گرینیڈ حملے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن چلایا تاہم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے علاقہ میں چیکنک پوائنٹس کو متحرک کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ گرینیڈ حملہ اس وقت کیا گیا جب وادی کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کی دو حصوں میں تقسیم کے خلاف جاری ہڑتال 92 ویں دن میں داخل ہوگئی۔ تاہم پیر کے روز بھی اگرچہ وادی کے یمین و یسار میں بازار دن کے وقت بند ہی رہے تاہم صبح اور شام کے وقت بازار کھلے رہنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی جزوی بحالی سے معمولات زندگی قدرے بحال ہوتے ہوئے نظر آئے تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close