آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

سری لنکا: بم دھماکوں کے بعد حکومت ہوئی سخت، مسلم خواتین مشکل میں

سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہوئے بم دھماکوں کے بعد سری لنکائی حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں چہرہ ڈھکنے پر پابندی عائد کرنے والے ایک حکم نامہ پر دستخط کیے ہیں۔ جس کے مطابق ایسے کپڑے پہننا جو چہرے کو پوری طرح سے چھپاتے ہوں، ان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘‘

یاد رہے کہ سری لنکا میں 21 اپریل کو مختلف مقامات پر ہوئےدہشت گردانہ حملوں میں تقریباً 253 لوگ مارے گئے تھے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ جن میں سے اکثریت سری لنکن مسیحیوں کی تھی۔ اس کے بعد گزشتہ جمعہ کو تین دیگر دھماکوں سے ملک کا مشرقی شہر كالمونائی دہل اٹھا۔ جس کے بعد ملک کے مشرقی حصے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ حالانکہ دہشت گرد تنظیم داعش نے مبینہ طور پر ان حملوں کی ذمہ داری لی تھی۔

واضح رہے کہ حکومت نے اپنے اعلان میں باقاعدہ طور پر نقاب یا برقعے کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا جس کا استعمال مسلمان خواتین اپنے چہرے ڈھانپنے کے لیے کرتی ہیں۔ ملک کے صدر میتھریپالا سریسینا کا کہنا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال اس پابندی کی وجہ بنی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد مسلم علماء کی ایک تنظیم ’اے سی جے یو‘ نے بھی ایک بیان جاری کرکے مسلم خواتین سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ اپنے چہرے کو ڈھکنے والے کسی طرح کے نقاب کو نہ پہنیں تاکہ سیکورٹی فورسز کو قومی سیکورٹی بنائے رکھنے کی ان کی کوششوں میں رخنہ پیدا ہو۔

آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے چاڈ، کیمرو، گابون، مورکو، آسٹریا، بلغاریہ، ڈنمارک، فرانس، بلجیم اور شمال مغربی چین کے مسلم اکثریتی علاقہ شن ژیانگ میں برقع پہننے پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close