آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

سری لنکائی پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پر تذبذب برقرار، ہنگامے کے بعد کارروائی ملتوی

سری لنکا کی پارلیمنٹ میں بدھ کو وزیر اعظم مہندا راج پکشے کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی کو شدید ہنگامے کے درمیان جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔ پارلیمنٹ کے ملتوی ہونے کے بعد ممبران پارلیمنٹ نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے نتائج کے تعلق سے متضاد دعوے کئے ہیں۔

برخاست وزیر اعظم وكرم سنگھے کی یونائٹیڈ نیشنل پارٹی کے ایم پی لکشمن كریلا نے صحافیوں کو بتایا کہ تحریک عدم اعتماد اکثریت سے منظور ہو گئی ہے اور نئے وزیر اعظم کو اقتدار چھوڑنی ہو گی مسٹر کریلا نے کہا کہ "ہمارے پاس اکثریت ہے اور مناسب پارلیمانی طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے۔ نئی حکومت اب نہیں رہی۔ سابق وزیر اعظم رانیل وكرم سنگھے پھر سے ملک کے وزیر اعظم بنیں گے”۔

دوسري طرف سری لنکا کے پیرامنا ممبر اسمبلی دنیش گوردھنے نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد منظور نہیں ہو سکی ، کیونکہ پارلیمنٹ کے اسپیکرنے الیکٹرانک ووٹنگ کا مطالبہ کرتے وقت پارلیمانی روایات پر عمل نہیں کیا۔ اس سے پہلے جنتا ویمكتی پیرامنا ( جے وی ایم ) کے ایم پی انیور کمار دسانائك نے پارلیمنٹ اسپیکر کرو جے سوریہ کو عدم اعتماد کی تحریک سونپی اور رکن پارلیمنٹ وجتا ہیرات نے اس تحریک کی حمایت کی۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے مسٹر راج پکشے کی پارٹی کے اراکین نے مخالفت شروع کر دی جس کے بعد سری لنکا وزیر اعظم بھی ایوان سے باہر چلے گئے۔

سری لنکا میں سیاسی بحران 26 اکتوبر سے ہی جاری ہے۔ صدر میتريپالا سری سینا نے ایک غیر متوقع فیصلے میں وزیر اعظم رانیل وكرم سنگھے کو ہٹا کر سابق صدر مہندرا راج پکشے کو وزیر اعظم مقرر کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مسٹر وکرم سنگھے کے فیصلے پلٹتے ہوئے پارلیمنٹ کی تحلیل پر حکم امتناع جاری کردیا ہے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close