تازہ ترین خبریںدلی نامہ

سجن کمار کے بھائی کو ٹکٹ دینے پر کانگریس دفتر پر سکھوں کا مظاہرہ

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
راجدھانی میں کانگریس پارلیمانی انتخابات کے امیدواروں کے ناموں کی لسٹ میں 1984 سکھ مخالف فسادات کے ملزم سابق ایم پی سجن کمار کے بھائی سابق ایم پی رمیش کمار کا نام آنے پر مخالفت شروع ہو گئی ہے۔

کانگریس کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم کےلئے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق کانگریس سکھ فسادات کے ملزم سجن کمار کے بھائی رمیش کمار کو جنوبی دہلی لوک سبھا حلقہ سے ٹکٹ دے رہی ہے۔ جس کے خلاف گرو دوارہ کمیٹی کے سابق صدر منجیت سنگھ کی قیادت میں شیرومنی اکالی دل اور دہلی کی سکھ سنگت کی جانب سے منعقدہ مظاہرہ میں سکھ فسادات کے متاثرین خاندانوں کے مرد و خواتین نے دہلی میں کانگریس صدر دفتر کے باہر زبرست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران مظاہرین نے کانگریس لیڈر سجن کمار کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔ ساتھ ہی مظاہرین نے کانگریس کے صدر راہل گاندھی کو سکھ کمیونٹی کے لوگوں کے جذبات کے ساتھ نہ کھیلنے کا بھی انتباہ دیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ رمیش کمار کو ٹکٹ نہ دیا جائے۔ اگر رمیش کمار کو ٹکٹ دیا گیا تو یہ سکھ کمیونٹی کو چڑھانے جیسا عمل ہوگا۔ انہوں ایک عرض داشت بھی کانگریس کو سونپا۔ جس میں کہا گیا کہ رمیش کمار کو ٹکٹ دینا ایک قاتل پریوار کا دو سرے کو نوازنے جیسا ہے۔

موصول اطلاع کے مطابق کانگریس نے دہلی کی تمام سات لوک سبھا سیٹوں کےلئے امیدواروں کے نام تقریباً طے کر دیئے ہیں۔ جس میں نئی دہلی سے اجے ماکن، جنوبی دہلی سے رمیش کمار، مغربی دہلی سے سشیل کمار، شمال مشرقی دہلی سے جے پرکاش اگروال، چاندنی چوک سے شیلا دکشت، شمال مغربی دہلی سے راجیش للوٹھیا اور مشرقی دہلی لوک سبھا سیٹ سے اروندر سنگھ لولی امیدوار ہوں گے۔ یہاں یہ بتا دیں کہ 2009 میں جب کانگریس نے سجن کمار کو ٹکٹ دیا تھا جب بھی شرومنی اکالی دل اور سکھ تنظیموں نے مخالفت کی تھی جس کے بعد کانگریس نے سجن کمار کا ٹکٹ کاٹ دیا تھا۔ 73سالہ سجن کمار کو سکھ مخالف فسادات کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close