تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ساہتیہ اکادمی ترجمہ ایوارڈ 2018 کا اعلان: ذکیہ مشہدی کو اردو میں ساہتیہ اکادمی 2018 ترجمہ ایوارڈ

دیگر انعام یافتگان میں زماں آزردہ (کشمیری)، صدرِعالم گوہر (میتھلی)، مبین الحق (بنگالی)، کے ایم یوسف (تمل)

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ساہتیہ اکادمی نے اپنے سالانہ ترجمہ ایوارڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ جس میں اردو کے ممتاز فکشن نگار اور مترجم ذکیہ مشہدی کو ’آخری سلام‘ ناول کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کے لئے سال 2018 کا ترجمہ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اکادمی کے صدر ڈاکٹر چندرشیکھر کمبار کی صدارت میں ہوئی ایکزیکٹیو بورڈ کی میٹنگ کے دوران ہندوستان کی 24 زبانوں کے مترجمین کو ایوارڈ دئیے جانے کے فیصلے کو منظوری دی گئی۔ حالانکہ ابھی تقسیم انعام تقریب کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، یہ ایوارڈ پچاس ہزار روپے اور امتیازی نشان پر مشتمل ہے۔

ذکیہ مشہدی نے درجنوں علمی و ادبی کتابوں کے انگریزی، ہندی اور اردو میں ترجمے کئے ہیں، جن میں ساہتیہ اکادمی کے لئے ’آخری سلام‘، ’پکھیرو‘، ’نیلا چاند‘ اور ’لداخ کا سایہ‘ کا اردو میں ترجمہ شامل ہے۔ ان کے پانچ افسانوی مجموعے ’پرائے چہرے‘، ’تاریک راہوں کے مسافر‘، ’صدائے بازگشت‘، ’نقشِ ناتمام‘ اور ’یہ جہانِ رنگ و بو‘ بھی شائع ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں جیوری کی میٹنگ میں ان کے نام کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہوا۔ میٹنگ کی صدارت اردو مشاورتی بورڈ کے کنوینر اور معروف شاعر شین کاف نظام نے کی اور جیوری ممبران میں پروفیسر انیس اشفاق، پروفیسر عتیق اللہ اور جناب شموئل احمد شامل تھے۔ ایوارڈ کے لئے گزشتہ پانچ برسوں یعنی 1 جنوری 2012 سے 31 دسمبر 2016 تک کے تراجم پر غور کیا گیا۔ دیگر ایوارڈ یافتگان میں کشمیری کے لئے زماں آزردہ، میتھلی کے لئے صدرِ عالم گوہر، بنگالی کے لئے مبین الحق، تمل کے لئے کے ایم یوسف، ڈوگری کے لئے نرسنگھ دیو جموال، انگریزی کے لئے سوباشری کرشناسوامی، ہندی کے لئے پربھات ترپاٹھی، ملیالم کے لئے ایم لیلاوتی، پنجابی کے لئے کے ایل گرگ، راجستھانی کے لئے منوج کمار سوامی، سنسکرت کے لئے دیپک کمار شرما کے نام شامل ہیں۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close