صحت و تندرستی

سانس کے مریضوں کے لئے کورونا ایک مشکل اور چیلنجز صورتحال کے طور پر ابھر کر آیا ہے: ڈاکٹر برنالی دتہ

نئی دہلی (امیر امروہوی)
کورونا کا دور سانس کی نالی کے مریضوں کے لئے ایک مشکل ہنگامی صورتحال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس ابتدائی طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار میدانتا اسپتال کے شعبہ تنفس کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر برنالی دتہ نے کیا۔

ڈاکٹر دتہ نے کہاکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد، سانس لینے میں دشواریوں یا سینے کی تکلیف کو کم کرنے کے لئے کچھ اہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ سانس کے مریضوں کے لئے کورونا ایک مشکل اور چیلنجز صورتحال کے طور پر ابھر کر آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس ابتدائی طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے، ایسے میں کورونا وائرس کی وقت پر جانچ کرنا چاہئے۔ جب کورونا مثبت آئے تو جلد ڈاکٹروں سے رجوع کریں اور اپنے آپ کو گھر والوں سے الگ کرکے کورائنٹائن ہو جائیں۔ ہلکی علامات کے حامل کورونا وائرس سے متاثرہ مریض گھر پر رہ سکتے ہیں۔ ایسے مریض ٹیلی میڈیسن کے ذریعے اپنے معالجین سے مشورہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ گھر میں رہنے والے متاثرہ مریضوں کو اپنے جسمانی درجہ حرارت، بلڈ پریشر، خون میں آکسیجن کی سطح، نبض کی سطح کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے۔ کسی بھی شدید علامات کی عکاسی جیسے سینے میں بھاری پن محسوس ہونا، جسم کا نیلا پڑ جانا، خون میں آکسیجن کم ہونا اور تیز دل کی دھڑکن، ایسے حالات میں مریض کو اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسپتال میں داخل مریضوں کو آکسیجن کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر دتہ نے مذید کہاکہ سانس کے نظام سے متعلقہ مشقیں مریضوں کو انفیکشن کے ہر مرحلے میں انجام دینے کی ضرورت ہوتی ہیں تاکہ آکسیجن کی سطح کم نہ ہو۔ دمہ یا دائمی پلمونری بیماریوں میں مبتلا افراد جو انہیلر کا استعمال کرتے ہیں ان لوگوں کو کورونا متاثرہ حالت میں انہیلر کا استعمال جاری رکھنا چاہئے۔ پھیپھڑوں میں ہوا کے تھیلے (الیوولی) کی سوزش (دائمی برونکائٹس) اور دائمی سانس کی نالی کی سوزش (دائمی برونکائٹس) دائمی پلمونری بیماریوں کی علامت ہیں۔ ایسے مرض میں مبتلا افراد کے لئے مکمل احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close