تازہ ترین خبریںمحاسبہ

ساری دنیا کر رہی ہے دلّی والوں کو سلام

محاسبہ…………….سید فیصل علی

تیسری بار دہلی کے وزیراعلیٰ بن چکے ہیں، ان کی تاریخی جیت نے یہ مہر بھی لگا دی کہ نفرت کی سیاست کبھی پائیدار نہیں ہوتی تو دوسری طرف یہ بھی پیغام دے دیا کہ بھارت کی دھرتی میں آئین، سیکولرزم، رواداری اور ہم آہنگی کی جڑیں کبھی ختم نہیں ہو سکتیں اور نفرت کا بیج حد سے زیادہ بونے کی جب جب کوشش ہوتی ہے تو بھارت کی دھرتی اسے پنپنے سے قبل اکھاڑ پھینکتی ہے۔

دہلی کا چناؤ بھارت کی یکجہتی کی شاندار مثال ہے، جہاں برادران وطن نے ملک کی سیکولر آتما کو بچا لیا ہے، جبکہ دہلی کے الیکشن میں کھلے عام ہندو، مسلم کارڈ کھیلا جاتا رہا، سر عام شاہین باغ کو آتنک وادیوں کا آندولن کہا جاتا رہا، انتخابی جلسوں میں سی اے اے کے خلاف بولنے والوں کو غدار کہا جاتا رہا، انہیں گولی مارنے کا نعرہ لگوایا جاتا رہا، ایک منتخب وزیراعلیٰ کو آتنک وادی کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے کا منظر دنیا نے بھی حیرت سے دیکھا، لیکن دہلی کے ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی حد درجہ تحمل اور دوراندیشی اور تہذیبی وراثت کے ساتھ نفرت کی آندھی کے سامنے ڈٹے رہے اور کجریوال کو ایسی تاریخ ساز فتح سے ہمکنار کیا، جس پر نہ صرف ملک کے گھاگھ سیاستداں حیران ہیں، بلکہ ہندوتو اور راشٹرواد کے دھواں دھار پرچار میں لگاکہ میڈیا بھی سکتے میں ہے۔ میڈیا جس نے سرکار کی چاپلوسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، شاہین باغ کو بدنام کرنے کے لئے ہرحربہ استعمال کیا، رات کو دن اور دن کو رات بنانے کے لئے کون سا کرتب نہیں دکھایا، حتیٰ کہ الیکشن کو جیتنے کے لئے بی جے پی نے زہریلی سیاست کی کیسی کیسی بساط بچھائی، نفرت کے بازی گروں نے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کردیں، دہلی کے ماحول کو بگاڑنے کے لئے شاہین باغ اور جامعہ کے مظاہرین پر تین بار گولیاں چلائی گئیں، مگر ہم اس کے منظر پس منظر میں نہیں جائیں گے۔ ہمیں افسوس اور حیرت تو یہ ہے کہ ایک طبقے کو اس کے کپڑے سے پہچاننے کا دعویٰ کرنے والے ملک کے پی ایم نے اپنے انتخابی جلسوں میں شاہین باغ کو نشانہ بنایا اور کہاکہ شاہین باغ ایک ’سنجوگ نہیں پریوگ‘ ہے۔ظاہر ہے جو بات پی ایم نے اشارے میں کہی تھی، اس کو پوری وضاحت کے ساتھ ان کے وزراء کہہ رہے تھے۔ خود کو سب سے طاقتور سمجھنے والے وزیرداخلہ نے ووٹروں سے یہاں تک کہاکہ ای وی ایم کا بٹن اتنے زور سے دبانا کہ اس کا جھٹکا شاہین باغ کو لگے۔ مگر بازی پلٹ گئی، دہلی کے ہندو اور مسلمانوں نے جمہوریت کی بقا اور آئین کے تحفظ کے لئے ای وی ایم کا بٹن اتنے زور سے دبایا کہ اس جھٹکے کا اثر بی جے پی خیمے میں دور تک زور سے محسوس کیاگیا۔

دہلی دل والوں کی ہے، جو سینکڑوں بار اجڑی اور بسائی گئی، جانے کتنے سمراٹ، بادشاہ اور سلاطین نے اس شہر کو اپنا پایہ تخت بنایا اور اپنی حکمرانی کی جبین بخت کو سجایا اور سنوارا، انگریز بھی دہلی کی اہمیت کے پیش نظر اپنا پایہ تخت کولکاتہ سے دہلی لانے پر مجبور ہوئے، اب اسی دہلی میں کام کے نام پر ووٹ دینے کی سیاست نے دھرم اور راشٹرواد کی راج نیتی کرنے والوں کو ایسی زوردار پٹخنی دی ہے کہ اس کی کراہ ایوان سیاست میں عرصہ دراز تک گونجتی رہے گی، مگر سوال تو یہ ہے کہ دہلی میں عبرتناک شکست سے دوچار ہونے کے باوجود کیا بی جے پی اپنے پرانے ایشوز سے کنارہ کش ہو جائے گی؟

دہلی کی ہار پر بالآخر امت شاہ نے اپنی خاموشی توڑی ہے۔ انہوں نے ایک چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ پارٹی کو ہیٹ اسپیچ سے نقصان ہوا۔ مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بی جے پی صرف ہار جیت کے لئے چناؤ نہیں لڑتی، بی جے پی ایسی پارٹی ہے جو اپنے طرز فکر کی توسیع پر یقین رکھتی ہے اور دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی کا طرز فکر اور پالیسی نام نہاد ہندوتو اور راشٹرواد کے گرد گھومتی ہے، گویا وہ اپنے ہندوتو کی سیاست کو ہرحال میں جاری رکھے گی۔ کجریوال کو آتنک وادی اور شاہین باغ کو سنجوگ نہیں پریوگ بتانا یہ سب جملے ہی ثابت ہوئے۔ 62 سیٹوں پر فتح دلا کر دہلی والوں نے بی جے پی کے آگے سچ کا آئینہ رکھ دیا ہے، مگر یہ کجریوال کے ظرف سیاست کا انوکھا پہلو ہے کہ جو بی جے پی کے سورما ان پر نفرت کے بان چلاتے رہے، ناشائستہ الفاظ کا استعمال کرتے رہے، اربن نکسلی کہتے رہے، آتنک وادی کہنے سے بھی گریز نہیں کیا، مگر کجریوال نے پلٹ کر جواب نہیں دیا، بلکہ دہلی کے عوام سے کہتے رہے کہ اگر آپ کا بیٹا آتنک وادی ہے تو ووٹ مت دیجئے، اگر عام آدمی پارٹی نے کام نہیں کیا ہے تو اسے اقتدار میں مت لائیے، مگر ایک وزیراعلیٰ کو آتنک وادی بتانا دہلی والوں کو پسند نہیں آیا، بی جے پی کا یہ سیاسی تجربہ بری طرح سے ناکام ہوگیا اور تن تنہا کجریوال کیخلاف ڈھائی سو ارکان پارلیمنٹ، مودی-یوگی کی قیادت میں 11وزرائے اعلیٰ کی فوج در موج 65 سو انتخابی جلسوں اور میڈیا کے بھونپو کے باوجود نفرت پر محبت جیت گئی۔

یوں تو مودی سب کا ساتھ سب کاوکاس کے جملے کہتے رہے ہیں، مگر اصل سوشل انجینئرنگ تو کجریوال نے دکھائی ہے۔ حالیہ چناؤ میں 8 خاتون ایم ایل اے منتخب ہوکر آئی ہیں، یہ سبھی عام آدمی پارٹی کی ہیں۔ دہلی میں 10دلت ایم ایل اے چن کر آئے ہیں، یہ سب بھی عام آدمی پارٹی کے ہیں۔ دہلی چناؤ میں جن 5 مسلم امیدواروں نے جیت کی تاریخ رقم کی ہے، وہ بھی عام آدمی پارٹی کے ہیں۔ دہلی اسمبلی کے لئے 3 سکھ ایم ایل بھی جیت کر آئے ہیں، وہ بھی عام آدمی پارٹی کے ہیں۔ بلاشبہ اسی کو کہتے ہیں ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ جسے عام آدمی پارٹی نے پورا کرکے دکھایا ہے، مگر بی جے پی نے کسی مسلمان کو ٹکٹ دینا تک گوارہ نہیں کیا۔ واجپئی دور میں کئی کئی وزارتوں کو سنبھالنے والے سید شاہنواز حسین آج بھی حاشیہ پر ہیں اور یہ بھی کجریوال کی سیاسی عظمت ہے کہ 2019 میں مودی کی حلف برداری میں انہیں مدعو نہ کرکے جس طرح تذلیل کی گئی اسے بھلاکر کجریوال نے 16فروری کی اپنی حلف بردار ی تقریب میں مودی سمیت دہلی کے تمام ارکان پارلیمنٹ کو مدعو کیا ہے۔ یہ کجریوال کی سیاسی پختگی کا شاندار منظرنامہ ہے کہ انہوں نے کسی بھی ریاست کے وزرائے اعلیٰ کو دعوت دینے کے بجائے دہلی کے عوام کو رام لیلا گراؤنڈ میں منعقد ’شپتھ گرہن سماروہ‘ میں بصد خلوص واحترام مدعو کیا ہے۔ عام لوگوں کو واٹس ایپ کے ذریعہ دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔

ملک اس وقت بدترین معاشی بدحالی، بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی سے پریشان ہے، ہرسمت سی اے اے اور این آرسی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، مگر ان سب باتوں سے بے نیاز بی جے پی ہنوز ہندوتو کے نشے میں مست ہے، اس کے وزراء کی بدزبانی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اب گری راج سنگھ نے معروف دینی درسگاہ دیوبند کو آتنک وادیوں کی گنگوتری قرار دیا ہے، ایسے زہریلے بول کے تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہلی والوں نے جس طرح سے نفرت کی سیاست کی ہوا نکالی، کیا کجریوال قومی سطح پر بی جے پی کی ہوا نکال سکتے ہیں؟ حالانکہ عام آدمی پارٹی میں کبھی ملک کے ممتاز دانشور بڑے صحافی، سماجی خدمتگاروں کی بڑی تعداد موجود تھی، انہوں نے پارٹی کو عروج بھی دیا تھا، مگر آج سبھی باہر ہیں۔ کجریوال کے علاوہ عام آدمی پارٹی میں ہے کون؟ اس کے علاوہ کئی پرانی سیاسی پارٹیوں میں تجربہ کار اور پختہ کار سیاستداں بھی ہیں، وہ بھلا کیوں کجریوال کو بی جے پی کا متبادل ہونے دیں گے۔ مگر اتنا تو ہے کہ کجریوال پہلے لیڈر ہیں، جنہوں نے وکاس کے نام پر ووٹ مانگ کر ملک کی 70سالہ سیاست کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے، اب اس سیاست کی تقلید کی ہمت کون لیڈر کرے یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔ دہلی کے بعد اب بہار کی باری ہے، جہاں لا لو پرساد یادو جیل میں ہونے کے باوجود وہاں کے عوام کے دلوں میں موجود ہیں، ان کے سپوت تیجسوی یادو دہلی میں بی جے پی کی کراری شکست کے بعد بڑے ولولے کے ساتھ بہار میں حزب اختلاف کو متحد کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ بنگال میں بی جے پی، سی اے اے کے ایشو پر تقسیم ہوچکی ہے، دہلی کی ہار نے بنگال بی جے پی کے بھی حوصلے پست کر دیئے ہیں، امت شاہ شش وپنج میں ہیں کہ بنگال میں این آرسی کی سیاست کی جائے یا وکاس کے نام پر ووٹ مانگا جائے، کیونکہ اب دہلی چناؤ سے یہ اجاگر ہونے لگا ہے کہ وعدے، نعرے یا ہندوتو کے سہارے ووٹ لینے کے دن گئے۔ بھلے ہی دہلی چھوٹی اور ادھوری ریاست ہے، مگر دہلی ہندوستان کا دل بھی ہے، دہلی میں جو کچھ ہوتا ہے، اس کے اثرات ملک پر مرتب ہوتے ہیں، دہلی کے ڈیڑھ کروڑ ووٹروں نے جس طرح بی جے پی کی زہریلی سیاست کو سپوتاز کیا ہے، وہ منظم ہندوستان اور ہم آہنگی کی جیت ہے، جس کے لئے جامعہ ملیہ کے طلباء، شاہین باغ کی شاہین صفت خواتین اور دہلی کے عوام کو ہزاروں سلام۔ بقول طالب رامپوری:

اے محبت جان و دل قربان تیری فتح پر
ساری دنیا کر رہی ہے دلّی والوں کو سلام

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close