تازہ ترین خبریںدلی نامہ

سابق وزیر اعلی کی رحلت پر سیاسی و سماجی حلقوں میں رنج کا ماحول

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
راجدھانی دہلی کے تخت پر 15 سال حکومت کرکے دہلی کو سنوارنے والی دہلی کی سابق وزیر اعلی اور دہلی کانگریس کی موجودہ صدر شیلا دکشت کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد میں رنج و افسوس کا ماحول ہے۔ شیلا دکشت نے 81 سال کی عمر میں آج اسکورٹ اسپتال میں اس دنیائے فانی کو الوداع کہا۔

سابق وزیر اعلی شیلا دکشت کے انتقال پر دہلی ارود اکادمی میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ تعزیتی نشست کی صدارت کر تے ہوئے پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ محترمہ شیلا دکشت اردو اکادمی، دہلی کی چیئرپرسن رہیں، ان کی صدارت میں اکادمی کے زیر اہتمام اردو کی ترقی و ترویج کا سلسلہ جاری رہا۔ آنجہانی لیڈر اکادمی کی سرگرمیوں اور پروگرواموں میں خصوصی دلچسپی لیتی اور مشاعروں میں شرکت فرماتی تھیں، ان کی رحلت کے سبب اہلِ دہلی اردو سے محبت کرنے والی ایک شخصیت سے محروم ہوگئے۔

سابق صدر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی پروفیسر ابن کنول نے ان کی اچانک رحلت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ محترمہ شیلا دکشت کے دورِ اقتدار میں اردو اکادمی نے ادبی پروگرواموں کے انعقاد پر خصوصی توجہ دی۔ معروف صحافی اور اکادمی کی گورننگ کونسل کے ممبر سہیل انجم نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کی رحلت پر اظہارِ افسوس کیا۔ سینٹ اسٹیفن کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر اوراکادمی کی گورننگ کونسل کے ممبر ڈاکٹر شمیم احمد نے آنجہانی لیڈر کی رحلت کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ نشست میں موجود اکادمی کے عملے کے افراد نے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔ اکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمد نے شیلا دکشت کے انتقال کو نہ صرف سیاست بلکہ ادب کا بڑا نقصاب بتاے ہوئے اظہار افسوس کیا۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ممبر مرزا جاوید علی نے شیلادکشت کی وفات پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں دہلی کو سجانے وسنوارنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جسے ہم دلی والے کبھی بھی بھلانہیں سکتے، یہی وجہ ہے کہ میں انہیں ہمیشہ موجودہ دور کی شاہجہاں کے خطاب سے موسوم کرتا رہا ہوں۔ مرزا جاوید نے شیلا دکشت کی وفات کو ایک عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیلا دکشت ایک عظیم لیڈر تھیں، مجھے ان سے کافی کچھ سکیھنے اور سمجھنے کا موقع ملا، آج وہ ہمارے درمیاں نہیں رہیں مگر جب جب دہلی کی ترقیاتی کاموں کا ذکر ہوگا ان کا نام سرفہرست رہے گا۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری محمد حامد خان نے کہاکہ شیلا دکشت کی وفات سیاست کا بڑا خسارہ ہے، دہلی کی وزیر اعلی کے عہدے پر رہتے ہوئے دہلی کو راجدھانی کے شایان شان بنانے کیلئے جو کچھ انہوں نے کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔

دہلی پردیش کا نگریس کمیٹی کے سکریٹری محمد طیب نے کہاکہ محترمہ شیلا دکشت ایک سلجھی اور منجھی ہوئی سیاست داں تھیں، بڑی سے بڑی مشکلوں کو حل کرنے کا ان کے پاس بہتر تجربہ تھا، اسی لئے ان کو کا نگریس کے اعلی کمان نے دہلی کانگریس کی کمان سونپی تھی۔ ان کی موت سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ پر نہیں کیا جا سکتا۔ سیتا رام بازار بلاک کے سابق صدر حسنین اختر منصوری نے کہاکہ محترمہ شیلا دکشت کا زبردست سیاسی تجربہ تھا، انہوں نے آنجہانی اندرا گاندھی، آنجہانی را جیو گا ندھی کے ساتھ ملک کیلئے کام کیا ہے،ان کی ترقی یافتہ سوچ تھی، ان کی اسی سوچ نے دہلی کو ترقی کی سمت گا مزن کیا۔ ان کا انتقال دہلی کا نگریس کا بڑا نقصان ہے۔

سماجی کارکن محمد ناصر خان نے کہا شیلا دکشت نے دہلی میں 15سالہ حکومت میں نہ صرف اپنی سیاسی صلا حیت کا لو ہا منوایا ہے بلکہ دہلی کو ترقی کی سمت دی ہے۔ دہلی کو سجانے اور سنوارنے والی شیلا دکشت کو دہلی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ وہ اپنے عزم اور ارادے کی پکی اندرا گاندھی کی ہی طرح آئرن لیڈی تھیں۔

کانگریس چاندنی چوک ضلع کے سکریٹری حاجی نواب الدین نے شیلا دکشت کے انتقال کو سیاست کا بڑا نقصان بتاتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ آنجہانی شیلا دکشت نہ صرف ایک بہترین سیاسی لیڈر تھیں بلکہ ایک نرم دل خاتون بھی تھیں جن کے دل میں دہلی والوں کے ممتا امڑتی تھی، انہوں نے دہلی کو سجا سنوار کر ایک راجدھانی کے شایان شان بنانے میں ایک کردار ادا کیا جس کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ جب بھی دلی کی ترقی کا ذکر ہوگا شیلا دکشت کو یاد کیا جائے گا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close