تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

’زندگی داؤ پر لگا کر سفر کرنے پر مجبور‘

نئی دہلی (انور حسین جعفری)

نہ کرائے کے لیے پیسہ ہے اور نہ ہی سفر کے لیے کھانا۔ بس ایک ہی مقصد ہے اپنے منزل تک پہنچنا، بھلے ہی راستے میں ہماری موت ہوجائے۔’کورونا کے قہر سے دنیا خوفزدہ ہے۔ حکومت نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا۔ مطلب جو جہاں تھا، وہیں ٹھہر گیا۔ اس سے سب سے زیادہ سماج کا غریب طبقہ متاثر ہوا، جو اپنے گھروں سے سینکڑوں میل دور روزی روٹی کے لئے پڑے تھے۔ آج وہی غریب مزدوروں کی ٹولی یہاں سے پیدل ہی دوسرے ریاست یعنی اپنے گھروں کی طرف جا رہی ہے۔

میڈیا سے بات چیت کے دوران مسافروں نے بتایا کہ ہم لوگ پیدل ہی یوپی و بہار کی طرف جا رہے ہیں۔ دہلی میں مقیم مزدوروں نے بتایا کہ ہم نے پولیس میں شکایت کی تھی، آدھار نمبر جمع کیا تھا، باوجود اس کے کوئی مدد نہ ہو پائی۔ آخر ہم لوگ بھوکے پیاسے یہاں کب تک رہتے؟ ایک مسافر نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران میرے ماں کا انتقال ہوگیا، میں نے بہت کوشش کی لیکن اپنے گھر نہیں پہنچ سکا۔ اب بھوکے پیاسے ہم جا رہے ہیں، وہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”نہ کرائے کے لیے پیسہ ہے اور نہ ہی سفر کے لیے کھانا۔ بس ایک ہی مقصد ہے اپنے منزل تک پہنچنا، بھلے ہی راستے میں ہماری موت ہو جائے۔

مسافر نے بتایا کہ ہم غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، راستے میں کئی گاڑیاں نکلیں، ہم نے لفٹ مانگی لیکن غریب سمجھ کر کسی نے نہیں روکا۔ ہمارے پاس میں نہ کھانا ہے نہ پانی۔ راستے میں کچھ لوگوں کو ہم پر رحم آیا، تو کچھ کھلا پلا دیا وہی ہمارے پاس ہے۔ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں یہ ضرور دعویٰ کر رہی ہیں کہ کسی مزدور کو پیدل یا سائیکل سے جانے نہیں دیا جائیگا۔ جو جہاں ہیں، وہیں رہیں، سب کے لیے کھانا پانی کا انتظام کیا جائے گا۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر مزدوروں کو کھانا پینا ملتا تو وہ لوگ اپنی جان جو کھم میں ڈال کر ہزار کلو میٹر کا سفر کبھی نہیں کرتے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close