تازہ ترین خبریںدلی نامہ

زعفرانی رنگ میں آلودہ نظامِ تعلیم کے خلاف تحریک چلائے گا ’مشن ایجوکیشن‘

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ملک میں پھیل رہی بھگوا شدت پسندی کا اثر دہلی کے نظام تعلیم میں داخلے پر دہلی بھر میں فروغ تعلیم کیلئے کام کر رہی تعلیمی تنظیم مشن ایجوکیشن کی اہم میٹنگ مشن کے دفتر واقع کمیونٹی سینٹر ترکمان گیٹ میں منعقد ہوئی۔ جس میں مشن ایجوکیشن کے ذمہ داران نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔ نظام تعلیم کے موضوع پر دہلی اقلیتی کمیشن کی مشاورتی کمیٹی کے رکن اور مشن کے صدر شفیع دہلوی کی جانب سے مظہر الاسلام سیکنڈری اسکول کے سابق وائس پرنسپل مشتاق بیگ کی صدارت میں منعقدہ خصوصی میٹنگ میں طے کیا گیا کہ یکم اگست سے 30 ستمبر تک دہلی کے ہر علاقے میں کورنر میٹنگ اور بیداری کیمپوں کا انعقاد کیا جائے گا نیز دہلی میں ایک بڑی تعلیمی کانفرنس منعقد کرکے نظامِ تعلیم میں ہونے والی غلطیوں کے سدِباب کے لئے سرکار کو جوابدہ بنایا جائے گا۔

اس موقع پر شفیع دہلوی نے کہا کہ جہاں پہلے سے ہی سیکڑوں خامیاں ہیں، وہیں نئے نظامِ تعلیم نے ماہرین تعلیم کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی زبانوں اور مادری زبانوں حصولِ تعلیم کو موقوف کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ اس سمت میں تمام سماجی تنظیموں متحرک ہو جانا چاہیے ورنہ آگے تعلیم کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ شفیع دہلوی نے کہا کہ آج جہاں ایک طرف تعلیم کے دو پیمانے مقرر ہو چکے ہیں ایک طرف غرباء کے لئے تعلیم کا حصول جتنا مشکل ہے دوسری طرف صاحبِ حیثیت لوگوں کے لئے بھی اب تعلیم صرف حیثیت بنانے کا ذریعہ رہ جائے گا۔

مشن ایجوکیشن کی جنرل سکریٹری اور دہلی اقلیتی کمیشن کی مشاورتی کمیٹی کی رکن بدر جہاں نے کہا کہ ہمیں تعلیم کو آسان اور مثبت نتائج کی حامل بنانے کیلئے مشتمل تحریک کی ضرورت پڑے گی۔ مشن ایجوکیشن کے سکریٹری اور دہلی اقلیتی کمیشن کی مشاورتی کمیٹی کے رکن حسنین اختر منصوری نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا قانونی طور پر ہر بچے کا بنیادی حق ہے اس کے باوجود آج دو پیمانے ہیں ایک سرکاری اسکول کا بچہ ہے جو اپنے آپ کو غریب اور کمزور ثابت کرتا ہے کیونکہ اس کی کوئی فیس نہیں۔ دوسری طرف پبلک اور پرائیوٹ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو داخلے میں ڈونیشن کے نام پر لاکھوں روپیہ رشوت دینی پڑتی ہے۔ یہ کونسا پیمانہ ہے جو تعلیم کو دو حصوں میں بانٹ دیتا ہے۔

فاروق انجینئر نے کہا کہ جب تک سیاسی اور سماجی کارکن نظامِ تعلیم کی خود نگرانی نہیں کریں گے یہ ناانصافی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ مشن کے نائب صدر فضل الرحمٰن قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس سلسلے میں عوام کو روشناس کرانے اور سرکار کو نہ صرف باخبر کرنے بلکہ اس کی جواب دہی طے کرنے کے لئے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔اس کی تائید مشن کے سکریٹری محمد عاقل ننو، سکریٹری انیس درّانی،نائب صدر عبدالنعیم نے کرتے ہو ئے کہا کہ پورے شہر میں اس سلسلے میں کیمپ اور کورنر میٹنگ کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔اپنے صدارتی خطاب میں مشتاق بیگ نے کہا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی سماجی کارکن تقریروں اور بیانوں سے آگے نہیں بڑھ پا رہے ہیں اور ہر شعبے کی افسر شاہی منمانی کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ میٹنگ میں سہیل اختر، جاوید اختر، محمد مختار، مقیم قریشی، اسعدمیاں، شاہجہاں بیگم، حاجی شکیل احمد، عبدالسمیع، سمیر خاں، محمد لئیق، محمد انیس، جمیل احمد، امیر ہمزہ اور مولانا انور قاسمی نے بھی اپنی تجاوز پیش کیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close