اپنا دیشتازہ ترین خبریں

زبان کھولو گے تو ’پی ایس اے‘ میں بند کر دیں گے، محبوبہ کی بیٹی کا الزام

پی ڈی پی سربراہ اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا نے منگل کو سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کی جیلوں میں بند سیاستدانوں کو دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے اپنی حراست کو عدالت میں چیلنج کیا تو ان کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) لگایا جائے گا۔

یاد رہے کہ پی ایس اے دو سال بغیر مقدمے کی سماعت جیل میں بند رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت درجنوں سیاستداں جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے زیادہ تر دفعات ختم ہونے کے بعد سے حراست میں ہیں، اگرچہ چونکانے والی بات ہے کہ کسی نے بھی اب تک اس کے خلاف عدالت کا رخ نہیں کیا۔ اس میں نوکر شاہ سے سیاستدان بنے آئی ایس ٹاپر شاہ فیصل مثال ہیں جنھوں نے اپنی حراست کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی مگر بعد میں اپنی درخواست واپس لے لی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پانچ اگست کو مرکز کی طرف سے جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ چھننے کے بعد سے فاروق عبداللہ اپنے ہی گھر میں نظر بند ہیں، مگر تمل ناڈو میں ایس ڈی ایم کے لیڈر وائیکو نے جب سپریم کورٹ میں ان کی رہائی کے لئے اپیل کی تو انتظامیہ نے نیشنل کانفرنس لیڈر کے خلاف پی ایس اے لگا دیا۔ التجا نے پی ڈی پی صدر اور ماں محبوبہ مفتی کے باضابطہ ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کرکے بتایا کہ سیاسی نظربندیوں نے اپنی حراست کے خلاف چیلنج نہیں کیا کیونکہ انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر عدالت میں اپیل کی تو پی ایس اے لگا دیا جائے گا۔ ماں کی حراست کے بعد سے التجا ان کی ٹویٹر اکاؤنٹ چلا رہی ہیں۔

فاروق عبداللہ کشمیر میں مرکزی دھارے کی پارٹی کے ایسے لیڈر ہیں جنہیں پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں سپریم کورٹ میں وائیکو کی درخواست کی سماعت سے کچھ گھنٹے پہلے پی ایس اے کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ حکومت کے ترجمان روہت کنسل سے اس معاملے میں ان کا موقف نہیں لیا جا سکا۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کے لئے آفیشیل طور پر مہیا کرائے گئے فون کا جواب بھی نہیں دیا۔ انگریزی ویب سائٹ دی ٹیلی گرام میں شائع خبر کے مطابق مواصلات پر پابندی کے بعد کشمیر میں صحافیوں کے لئے یہی ایک طریقہ ہے جس سے وہ کسی انتظامی افسر کا موقف جان سکیں۔

ٹیلی گراف نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر جیل میں بند ایک سیاستدان کے بیٹے کے حوالے سے بتایاکہ انہوں نے ظلم کے خوف سے عدالتوں میں اپیل نہیں کی۔ سیاستداں کے بیٹے نے کہاکہ اگر ہم عدالت میں اپیل کرتے ہیں تو میرے والد کو طویل حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close