تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

ریزرویشن ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے مودی حکومت: ادت راج

درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی تنظیموں کی آل انڈیا فیڈریشن کے چیئر مین ادت راج نے مودی حکومت کو بے حس اور گونگی بہری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری اداروں کی نجکاری کرکے ریزرویشن کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے اس لیے اس کی پالیسیوں کے خلاف عوامی تحریک کی ضرورت ہے۔

سابق رکن پارلیمان ادت راج نے اتوار کو ملک کے مختلف حصوں سے یہاں رام لیلا میدان میں جمع ہوئے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت کا ہرقدم دلت، آدی واسی، کسان اور غریب مخالف ہے۔ یہ حکومت ریزرویشن مخالف ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے وہ سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کر رہی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ مودی حکومت تقریروں اور ریلیوں سے ماننے والی نہیں ہے کیونکہ وہ آئینی اقدار پر عمل نہیں کررہی ہے اس لیے آئینی ضابطوں کو ختم کرنے پر بضد ہے۔

حکومت کا ہدف ریزرویشن کو ختم کرنا ہے اور اس کے لیے اس نے سرکاری اداروں اور کمپنیوں کی نجکاری کا راستہ منتخب کیا ہے۔ اس کمپنیوں کی نجکاری ہونے کے بعد وہاں ریزرویشن نافذنہیں کیا جاسکے گا اور ملک میں ریزرویشن کا نظام از خود ختم ہو جائیگا۔ انھوں نے کہاکہ جس رفتار سے یہ حکومت نجکاری کی راہ پر آگے بڑھ رہی ہے اسے روکنا اب آسان نہیں ہے۔ اس پالیسی کے خلاف اس حکومت سے ٹکرانے کی ضرورت ہے۔ اس حکومت کا مقابلہ تقریروں، ریلیوں یا اس طرح کے پروگراموں سے نہیں بلکہ تحریک کے ذریعہ کرنا ہوگا۔ سبھی دلتوں اور آدی واسیوں کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر اترنا ہوگا۔

مسٹر راج نے کہاکہ اس حکومت کی پالیسیوں کے خلاف لڑائی کو آسانی سے نہیں لڑا جاسکتا اس لیے سبھی کو پرعزم ہوکر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا اور اسکی سازش کے خلاف سختی سے لڑائی لڑنی ہوگی۔انھوں نے کہاکہ یہ حکومت تقریر سے نہیں مانتی ہے۔ تقریروں کے بدولت یہ حکومت بنی ہے اس لیے اسے تحریک سے ہی اپنی بات منوانی پڑے گی۔ حکومت نے بے حسی کا طریقہ اختیار کیا ہے اور وہ من مانی پر اتر آئی ہے۔

کتنی ہی بڑی ریلی کر لو اسکا اثر نہیں ہوگا کیونکہ میڈیا پر حکومت کا کنٹرول ہے۔ اخبار والے خبر چھاپیں گے نہیں۔ حکومت ظلم ڈھا رہی ہے اور اس سے لڑنا آسان نہیں ہے اس لیے سب کو پورے عزم کے ساتھ اسکے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ صر ف حکومت کی سازش اور نجکاری کے خلاف ہی یہ لڑائی نہیں ہے بلکہ بے روزگاری، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف بھی لڑائی لڑنی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close