تازہ ترین خبریںرمضان کی بہاریں

رمضان کی بہاریں: سحری بندۂ مومن کیلئے اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام

لغت میں سحری اس کھانے کو کہتے ہیں جو صبح صادق سے پہلے کھایا جائے۔ یہ اللہ کا بڑا انعام ہے کہ اس نے روزہ داروں کے لیے سحری کھانے میں بھی بڑی فضیلت رکھ دی ہے، اگر یہ فضیلت نہ ہوتی تو ہو سکتا تھا کہ اللہ کے بہت سے بندے بغیر سحری کا روزہ رکھ کر مشقت اٹھاتے، سحری کھانا سنت ہے، بہت سی روایات میں سحری کی فضیلت وارد ہے۔

شارح بخاری علامہ عینی ؒنے اپنی کتاب عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ سترہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سحری کی فضیلت میں احادیث مروی ہیں اور اس کے مستحب ومسنون ہونے پر علماء کا اجماع ہے، شارح مسلم امام نوویؒ نے بھی سحری کی فضیلت اور استحباب پر فقہاء امت کا اجماع نقل کیا ہے (المجموع شرح المہذب: ج،۶ باب السحور فی الصوم) اس سلسلے کی کچھ احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں:

(۱) حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تسحروا فإن فی السحور برکۃ۔ ”سحری کھایا کرو اس لیے کہ سحری کے کھانے میں برکت ہے“ (بخاری:۲/۸۷۶، رقم الحدیث: ۳۲۸۱، مسلم:۲/۰۷۷،رقم الحدیث: ۵۹۰۱، ترمذی: ۳/۸۸،رقم الحدیث: ۸۰۷)

(۲) حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سحری مبارک کھانا ہے (صحیح ابن حبان:۸/۳۴۲، رقم الحدیث: ۴۶۴۳)

(۳) حضرت عبد اللہ بن حرثؓ فرماتے ہیں کہ میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت سحری تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ برکت کی چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ خاص چیز تمہیں عطا فرمائی ہے، لہذا اسے مت چھوڑنا (نسائی:۴/۵۴۱،رقم الحدیث: ۲۶۱۲)

(۴) حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سحری کا کھانا باعث برکت ہے اسے مت چھوڑو خواہ ایک گھونٹ پانی ہی پی لیا کرو، کیوں کہ سحری کھانے والوں پر اللہ رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت کی دُعا کرتے ہیں، (مسند احمدبن حنبل:۳/۲۱، رقم الحدیث: ۱۰۱۱۱)

(۵) حضرت عمرو بن العاصؓ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان سحری کا فرق ہے (یعنی وہ سحری نہیں کھاتے ہم کھاتے ہیں) (صحیح مسلم:۲/۰۷۷ رقم الحدیث:۶۹۰۱)

(۶) حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سحری کے کھانے سے دن کے روزے پر قوت حاصل کرو اور قیلولے (دوپہر کے آرام) سے رات کے قیام (تہجد) میں مدد لو (ابن ماجہ:۱/۰۴۵، رقم الحدیث: ۳۹۶۱) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سحری کھانا باعث اجرو ثواب بھی ہے اور اس سے روزے پر قوت بھی حاصل ہوتی ہے، بعض لوگ تراویح کے بعد سو جاتے ہیں اور سستی کی وجہ سے سحری کے لیے نہیں اٹھتے، ان کا روزہ تو ہو جاتا ہے مگر وہ سحری کے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔

سحری میں تاخیر کرنی چاہئے:
سحری کچھ تاخیر سے کھانی چاہئے، لیکن اتنی تاخیر بھی نہ کرنی چاہئے کہ صبح صادق طلوع ہو جائے، صبح صادق کی پہچان یہ ہے کہ مشرق میں افق کے کناروں پر روشنی کی دھاری نمودار ہوتی ہے، پھر روشنی غالب آجاتی ہے اور تاریکی ختم ہو جاتی ہے سحری کی تاخیر سے متعلق ایک روایت میں ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں نبوت کا حصہ ہیں (۱) افطار میں عجلت (۲) سحری میں تاخیر (۳) اور نماز میں ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھنا (سنن دار قطنی:۱/۴۸۲ رقم الحدیث: ۲) سحری میں کتنی تاخیر ہونی چاہئے اس کا ذکر بھی حدیث میں موجود ہے۔
حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے سرکارد وعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے (راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ثابتؓ سے دریافت کیا) کہ اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ ہوتا تھا، انہوں نے کہا تقریباً پچاس آیات کی تلاوت کا۔ (بخاری:۲/۸۷۶، رقم الحدیث ۱۲۸۱) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح صادق سے اتنی دیر پہلے سحری ختم کر دینی چاہئے کہ اتنی مدت میں قرآن کریم کی کم از کم پچاس آیات تلاوت کی جاسکیں۔

سحری کے کچھ اور مسائل:
(۱) سحری کھانا مستحب ہے، اگر کسی نے بغیر سحری کے روزہ رکھ لیا تو روزہ ہو جاتا ہے، اگر رات کو آنکھ نہ کھلی اورسحری رہ گئی تو روزہ رکھنا چاہئے، سحری نہ کھانے کی وجہ سے روزہ چھوڑ دینا جائز نہیں ہے۔ (فتاوی دارالعلوم:۶/۶۵۱)

(۲) صبح صادق کے بعد کھانا پینا درست نہیں ہے، بعض لوگ اذان کا انتظار کرتے رہتے ہیں، اذان کا انتظار کرنا غلط ہے ہو سکتا ہے، اذان صبح صادق کے بعد تاخیر سے دی جا رہی ہو (فتاوی دار العلوم:۶/۵۴۳) چنانچہ اگر اذان شروع ہوتے ہی سحری چھوڑ دی تو اگر یہ یقین ہو کہ صبح صادق کے بعد اذان ہوتی ہے تب تو روزہ صحیح نہیں ہوگا اور اگر محض شبہہ ہو یقین نہ ہو تو اگرچہ ایسے تنگ وقت میں کھانا مکروہ ہے مگر روزہ ہوجائے گا (احسن الفتاوی: ۴/۲۳۴)

(۳) سحری کھانے کے بعد کلی کر لینی چاہئے، بلکہ مسواک وغیرہ کر لینی چاہئے اور دانت منہ اچھی طرح صاف کر لینے چاہئیں تاکہ کھانے کے ریزے وغیرہ دانتوں میں اٹکے نہ رہیں، اگر کسی نے سحری کھاکر کلی نہ کی اور اسی طرح سو گیا، اگر دانتوں میں اٹکا ہوا کھانا چنے کی مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ حلق میں اتر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اس صورت صرف قضاء واجب ہوگی کفارہ نہیں ہوگا اور اگر چنے کی مقدار سے کم ہو تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا (احسن الفتاوی: ۴/۳۲۴)

سحری کے متعلق کچھ اہم گزارشات:
سحری کا ایک مستحب وقت ہے، بہتر یہ ہوگا کہ اس کا لحاظ کیا جائے، بعض لوگ بہت تاخیر سے کھاتے ہیں، بسا اوقات سحری کا وقت ختم ہوجانے کی وجہ سے بھوکے رہ جاتے ہیں اور کبھی وقت نکل جانے کا خیال نہیں رہتا اور کھاتے چلے جاتے ہیں جس سے روزہ ختم ہو جاتا ہے، بعض لوگ آدھی رات سے ہی سحری کھانا شروع کر دیتے ہیں، اتنی جلدی سحری کھانا شریعت کے منشأ اور سحری کے مقصد کے خلاف ہے، ہاں اگر کوئی عذر ہے مثلاً سفر درپیش ہے تو جلدی کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

بعض لوگ سحری تو مناسب وقت میں کھاتے ہیں لیکن چائے، پان، بیڑی، سگریٹ وغیرہ کا استعمال بالکل آخری وقت میں کرتے ہیں، اس سے اکثر روزہ خطرے میں پڑ جاتا ہے، بعض لوگ سحری جلدی کھا کر سو جاتے ہیں اور فجر قضا کر دیتے ہیں، یہ بہت بڑا گناہ ہے، اسی طرح یہ بھی مناسب نہیں کہ جلد ی سونے کی وجہ سے نماز گھر پر پڑھ لی جائے اور نماز با جماعت کا اہتمام نہ کیا جائے، رمضان میں سحر وافطار کے جو نقشے چھپے چھپائے تقسیم ہوتے ہیں ان کو دیکھ لینا چاہئے کہ وہ کسی قابل اعتماد ادارے نے شائع کئے ہیں یا نہیں، پھر ان کے اوقات میں ایک آدھ منٹ کی احتیاط کرلینی چاہئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close