اپنا دیشتازہ ترین خبریں

راہل کے ’ریپ‘ والے بیان پر لوک سبھا میں ہنگامہ، کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے میک ان انڈیا کی جگہ’ریپ ان انڈیا‘ والے بیان پر آج لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ لیکن لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایک بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد دوبارہ دوپہر بعد 12.15 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس کے ارکان کی نعرے بازی کے درمیان اس اجلاس میں ہوئے کام کاج کی جانکاری دی اور اس کے بعد انہوں نے کاروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں حال ہی ایک عوامی جلسے میں ’میک ان انڈیا‘ کے تناظر میں ’ریپ ان انڈیا‘ کا تبصرہ کیا تھا۔ آج ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ ہاؤس حملے میں شہید ہوئے پولیس اہلکاروں اور ملازمین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد بی جے پی ارکان نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر مسٹر گاندھی کے ’ریپ ان انڈیا‘ والے بیان پر ہنگامہ شروع کر دیا۔ بی جے پی کے ارکان مسٹر گاندھی سے ایوان میں آکر معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے لگے۔

خواتین واطفال کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے جب کسی بڑے سیاسی پارٹی کے لیڈر نے ملک کی خواتین کے لئے اس طرح کے شرمناک بیان دیئے ہیں۔ انہوں نے مسٹر گاندھی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’ریپ‘ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ ریپ ہو؟ اس دوران بی جے پی کی سبھی خاتون ارکان اپنی سیٹ کے قریب کھڑی ہو گئیں اور ’راہل گاندھی معافی مانگو‘ کے نعرے لگانے لگیں۔

پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال نے مسٹر گاندھی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لئے اشتعال انگیز الفاظ کے استعمال کے لئے انہیں ایوان میں آکر معافی مانگنی چاہئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ہماری حکومت ’میک ان انڈیا‘ کے تحت ملک کی ترقی کرنا چاہ رہی ہے لیکن مسٹر گاندھی کو کیا ہو گیا ؟ مسٹر گاندھی نے ہندوستانی خواتین کو کیا سمجھ رکھا ہے، انہیں جواب دینا چاہئے۔ بی جے پی کی لاکٹ چٹرجی اور سنجے جیسوال نے بھی مسٹر گاندھی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

ڈی ایم کے کی ایم کنی موجھی نے کہا کہ مرکزی وزیر نے ان کا اور سپریا سلے کا نام لیا ہے کہ ہم اس کا جواب دیں … میں کہنا چاہتی ہوں کہ یہ بیان ایوان کے باہر دیا گیا ہے … وزیر اعظم نے ہمیشہ ’میک ان انڈیا‘ کہا ہے. .. ہم اس کا احترام کرتے ہیں… ہم چاہتے ہیں کہ مصنوعات ہندوستان میں تیار ہوں … لیکن اس ملک میں کیا ہو رہا ہے …. یہی راہل گاندھی نے کہا کہ ’میک انڈیاُ نہیں ہو رہا ہے، ملک میں خواتین کے عصمت دری ہو رہی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی اور ارجن رام میگھوال نے محترمہ کنی موجھی اور محترمہ سلے سے اس معاملے میں مشورہ دینے کی مانگ کی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close